مگرمورتی کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہیں‘کولہاپور میں مجسمہ کی نقاب کشائی‘ تقریب سے خطاب
کولہا پور(مہاراشٹرا): کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور اپوزیشن قائدراہول گاندھی نے ہفتہ کو مہاراشٹرا کے کولہا پور میں چھترپتی شیواجی مہاراج کی مورتی کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بی جے پی پر سخت تنقید کی اور ان کی حکمت عملی اور نظریے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔راہول گاندھی نے کہا کہ بی جے پی نے شیواجی مہاراج کی مورتی تو بنائی لیکن کچھ ہی دنوں میں وہ مورتی ٹوٹ کر گر گئی۔ انہوں نے اس واقعے کو ایک علامتی پیغام قرار دیا اور کہا کہ شیواجی مہاراج کی مورتی بنانے کا مطلب صرف مجسمہ سازی نہیں ہے بلکہ ان کی سوچ اور نظریے کی حفاظت بھی کرنی پڑے گی۔راہول گاندھی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ بی جے پی کے لیڈر شیواجی مہاراج کی مورتی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر احترام کا مظاہرہ تو کرتے ہیں لیکن عملی طور پر ان کی سوچ کے خلاف کام کرتے ہیں۔ گاندھی کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں آج دو مختلف نظریات کے درمیان ایک بڑی جنگ چل رہی ہے۔ ایک طرف وہ نظریہ ہے جو آئین کی حفاظت کرتا ہے، برابری اور اتحاد کی بات کرتا ہے اور یہ شیواجی مہاراج کا نظریہ ہے جبکہ دوسری طرف بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کا وہ نظریہ ہے جو شیواجی مہاراج کی سوچ کو ختم کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کا نظریہ ڈرانا، دھمکانا اور آئینی حقوق کو کمزور کرنا ہے جو اس عظیم رہنما کی سوچ کے بالکل برعکس ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ جس نظریے کے خلاف شیواجی مہاراج نے زندگی بھر جنگ کی آج کانگریس پارٹی بھی اسی نظریے کے خلاف لڑ رہی ہے۔راہول گاندھی نے شیواجی مہاراج کی تعلیمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ ملک سب کا ہے اور سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ کسی کے ساتھ بھی ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ آج آئین شیواجی مہاراج کی سوچ کا عکاس ہے، کیونکہ آئین میں ہر وہ اصول شامل ہے جس کے لیے شیواجی مہاراج نے اپنی پوری زندگی جدوجہد کی۔ ان کے مطابق آئین میں شامل حقوق، برابری، انصاف اور اتحاد کے اصول وہی ہیں جن کیلئے شیواجی مہاراج نے جنگ کی تھی۔ راہول گاندھی نے مزید کہا کہ شیواجی مہاراج کی تعلیمات اور ان کے نظریات آج بھی ملک کیلئے راہنما اصول ہونے چاہئیں۔راہول گاندھی نے شیواجی مہاراج کی مورتی کے ٹوٹنے کے واقعے کو بی جے پی کی ناکامی کی نشانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ صرف شیواجی مہاراج کی مورتی بنانے پر زور دیتے ہیں انہیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ان کی سوچ اور نظریے کی حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ راہول گاندھی کی آمد پر ان کا شاندار پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا۔