نئی دہلی۔26فبروری( سیاست ڈاٹ کام)دہلی ہائی کورٹ کے جج مرلی دھر کے آدھی رات کو تبادلے پر کانگریس نے بی جے پی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ کانگریس لیڈر رندیپ سنگھ سرجے والا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اشتعا ل انگیز بیانات دینے والے بی جے پی لیڈروں کو بچانے کے لئے جج مرلی دھر کا تبادلہ کیا گیا۔جسٹس ایس مرلی دھر کے دہلی ہائی کورٹ سے تبادلے پر تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ وہیں اسی درمیان کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے ایک پریس کانفرنس میں جسٹس ایس مرلی دھر کے تبادلے کو لیکر بی جے پی حکومت پر نشانہ سادھا ہے۔کانگریس نے حکومت پر سنگین الزام عائد کیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کے جج مرلی دھر کے آدھی رات کو تبادلے پر کانگریس نے بی جے پی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ کانگریس لیڈر رندیپ سنگھ سرجے والا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اشتعا ل انگیز بیانات دینے والے بی جے پی لیڈروں کو بچانے کے لئے جج مرلی دھر کا تبادلہ کیا گیا۔واضح رہے کہ اس سے پہلے جسٹس ایس مرلی دھر کے تبالے پر پرینکا گاندھی نے مرکزی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ ایک ٹویٹ میں پرینکا گاندھی نے کہا کہ آدھی رات کو جسٹس مرلی دھر کا تبادلہ افسوس ناک اور شرمناک ہے۔ حکومت طاقت کے زور پر انصاف پسندوں کا منہ بند کرنا چاہتی ہے۔ خیال رہے کہ بدھ کے روز دہلی میں تشدد اور بی جے پی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات پر پولیس کو زبردست پھٹکار لگائی تھی اور بی جے پی کے تین لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی تھی۔قابل غور ہے کہ دہلی ہائی کورٹ کے جج مْرلی دھر کا گزشتہ رات پنجاب۔ہریانہ ہائی کورٹ میں تبادلہ کردیا گیا۔جسٹس مْرلی دھر کے تبادلہ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کچھ دِنوں قبل سْپریم کورٹ کی کالیجیئم نے جسٹس مْرلی دھر کے تبادلے پر فیصلہ لیا تھا۔ دریں اثناراہل گاندھی نے اس موقع پر جج لویا کو بھی یاد کیا جن کی مشتبہ حالات میں موت ہو گئی تھیدہلی تشدد کی سماعت کرنے والے ہائی کورٹ کے جسٹس مرلیدھر کے ٹرانسفر پر کانگریس کی اعلی قیادت نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے قابل افسوس اور شرم ناک قرار دیا ہے۔ گزشتہ روز تشدد پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس مرلیدھر نے دہلی پولیس کو پھٹکار لگائی تھی اور بی جے پی لیڈران کپل مشرا، انوراگ مشرا اور پرویش ورما کے اشتعال انگیز بیان بازی کرنے کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی تھی۔راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا، ’’اس موقع پر جج لویا یاد آ رہے ہیں، جن کا تبادلہ نہیں ہوا تھا۔‘‘خیال رہے کہ جج لویا کی موت مشتبہ حالات میں ہوئی تھی، جو کہ سہراب الدین کیس کی سماعت کر رہے تھے۔ ان کی موت کے بعد کئی سوالات کھڑے ہو گئے تھے۔ اس معاملہ میں موجودہ وزیر داخلہ امت شاہ کا نام بھی لیا گیا تھا۔ کئی کوششوں کے باوجود ان کی مشکوک موت کا دوبارہ جائزہ نہیں لیا جا سکا۔ اس حوالہ سے ملک بھر میں آواز اٹھائی گئی تھی۔
