بھوپال: اتر پردیش کے بعد مدھیہ پردیش نے ان ریاستوں میں اپنی ایک خصوصی پہچان بنائی ہے جہاں بناء کسی قانون اور عدالتی حکم کے کسی بھی ملزم کے گھر پر بلڈوزر چلانا اب عام ہوتا جا رہا ہے۔!اب اسی مدھیہ پردیش کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہیکہ ایک خاتون جو کہ اس کے حامیوں کے ساتھ موجود ہے پولیس اور دیگر عہدیداروں سے بحث کرتے ہوئے ایک پولیس عہدیدار کو اپنی چپل سے مار رہی ہے۔! اس ویڈیو میں موجود خاتون کا نام سادھنا پٹیل بتایا گیاہے جوکہ بی جے پی کی مقامی لیڈر اور ستنا میونسپل کونسل کی صدرنشین بھی ہیں۔ ان کے چند حامیوں کو پولیس عہدیداروں کے ساتھ بحث کرتے ہوئے بھی اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے۔اس بحث کے دوران ایک پولیس عہدیدار اس بی جے پی لیڈر اور ہجوم سے پیچھے ہٹتے ہوئے پوچھتا ہے کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کو پولیس اسٹیشن لے جائیں؟اورہم وہاں سے اپنی تفتیش شروع کریں۔؟میڈیا اطلاعات کے مطابق چترکوٹ نگر پنچایت کے سورنگی گاؤں میں غیر قانونی کانکنی کی شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس پیر کی رات جائے مقام پر پہنچی اور اسے تلخ تجربہ ہوا۔
گزشتہ سال رام نومی کے موقع پر مدھیہ پردیش کے کھرگون میں شوبھایاترا کے موقع پر اشتعال انگیزی کے دوران مسجد اور اس سے متصل بستی میں سے یاترا پر پتھراؤ کے الزامات کی دوسری صبح ہی بلڈوزروں کے ذریعہ غیر قانونی تعمیرات کے نام پر کئی مکانات اجاڑے گئے اور کئی افراد کو بیروزگار کیا گیاتھا۔ان میں سے ایک مکان پردھان منتری آواس یوجنا اسکیم کے تحت تعمیر کردہ تھا۔گذشتہ دنوں ہی مدھیہ پردیش کے اجین میں ممنوعہ چینی مانجھا فروخت کرنے والے دو بیوپاریوں کے مکانات کے حصے بلڈوز سے مسمار کردئیے گئے تھے۔اسی دوران گذشتہ ہفتہ کرنی سینا کی جانب سے کئے گئے احتجاج کے دوران مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور ان کی والدہ کے خلاف انتہائی نازیبا اور ناقابل برداشت نعرے لگائے گئے تھے جس پر وزیراعلیٰ نے بیان دیا اور ٹوئٹر پر بھی لکھاکہ ’’پچھلے دنوں ایک آندولن کے دوران ناشائستہ زبان استعمال کی گئی تھی۔
’’اس سلسلہ میں احتجاجیوں نے معافی مانگ لی ہے۔انہوں نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہاتھاکہ ان کی آنجہانی والدہ جہاں کہیں بھی ہیں ان نعرے لگانے والوں کو معاف کردیں۔