بی جے پی لیڈر کی ہلاکت میں لشکر طیبہ ملوث:پولیس

   

سری نگر: کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے کہا ہے کہ مہلوک بی جے پی لیڈر وسیم باری پر لشکر طیبہ نامی جنگجو تنظیم سے وابستہ دو جنگجوؤں نے حملہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہلوک لیڈر کی حفاظت پر مامور 10 ذاتی محافظوں کو نہ صرف گرفتار کیا گیا ہے بلکہ انہیں نوکریوں سے بر طرف بھی کیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ بانڈی پورہ میں چہارشنبہ کی شام جنگجوؤں نے بی جے پی کے ضلع صدر وسیم باری، والد بشیر احمد اور بھائی عمر بشیر پر اندھا دھند گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں ان تینوں کی موت واقع ہوئی۔انسپکٹر جنرل نے شمالی کشمیر کے ڈی آئی جی پولیس اور ایس ایس پی بانڈی پورہ کے ہمراہ جمعرات کے روز جائے واردات کا دورہ کیا اور وہاں پولیس اسٹیشن، جو مہلوک بی جے پی لیڈر کی رہائش گاہ کے روبرو واقع ہے ، میں سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی۔اس موقع پر انہوں نے کہا:’ہم نے فوج اور سی آر پی ایف کے افسروں کی موجودگی میں سی سی ٹی وی فوٹیج کا مشاہدہ کیا۔ لشکر طیبہ سے وابستہ دو جنگجوؤں نے یہ حملہ کیا ہے جن میں سے ایک مقامی ہے جس کی شناخت عابد کی حیثیت سے ہوئی جبکہ دوسرا غیر مقامی ہے ، مقامی جنگجو عابد نے قریبی فاصلے سے پستول سے ان تین افراد پر فائرنگ کی جبکہ دوسرے جنگجو نے اس کی مدد کی ہے ۔