بی جے پی مسلم اکثریتی سیمانچل میں این آر سی کی خواہشمند

   

نئی دہلی ۔ 5 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیشی در اندازوں کو نکال باہر کرنے کیلئے برسر اقتدار بی جے پی نیشنل رجسٹر آف سٹیزن شپ پر ملک بھر میں عمل آوری کرنا چاہتی ہے، جس نے بہار کا مسلم اکثریتی پسماندہ سیمانچل خطہ نمایاں ہے۔پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی اور سینئر آر ایس ایس لیڈر راکیش سنہا نے بڑی مسلم والے خطوں میں این آر سی کے لئے مطالبہ شروع کیا ہے۔ ہندوتوا سیاست کے حامی راکیش کا مطالبہ ہے کہ اضلاع کشن گنج ، کاٹیہار، پورنیا اور ارریامیں این آر سی پر عمل آوری ہونا چاہئے ۔ سیمانچل میں تقریباً ایک کروڑ کی آبادی ہے اور یہ خطہ چار اضلاع پورنیا ، کاٹیہار، کشن گنج اور ارریا پر مشتمل ہے۔ صرف کشن گنج میں ہی مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 67.7 فیصد ہے، کاٹیہار میں 43 فیصد ، ارریا میں 40 فیصد اور پورنیا میں 38 فیصد ہے۔ 2011 ء کی مردم شماری کے مطابق پورے بہار کی 105 ملین آبادی کا 16.5 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ تاریخی طور پر نظر انداز کردہ سیمانچل ہنوز سماجی اور سیاسی طور پر نمایاں خطہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بی جے پی کی حلیف پارٹی جے ڈی یو نے ریاست میں این آر سی کے خیال کو مسترد کردیا ہے۔

اقتصادی بحران پر بی جے پی کی خاموشی خطرناک:پرینکا
نئی دہلی۔5ستمبر(سیاست ڈاٹ کام) کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے ملک میں اقتصادی بحران کے سلسلے میں حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی بحران کی خبروں سے ملک کے عوام فکرمند ہیں لیکن مودی حکومت اس بارے میں حیران کرنے والی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔