بی جے پی مکت بھارت کی تشکیل کیلئے ہم خیال اپوزیشن جماعتیں متحد: کے سی آر

   

قیادت کا فیصلہ الیکشن کے وقت ہوگا،بی جے پی اقتدار میں ملک کا بھاری نقصان، نتیش کمار سے سیاسی امور پر بات چیت

حیدرآباد۔/31 اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے قومی سطح پر مخالف بی جے پی محاذ کیلئے چیف منسٹر بہار نتیش کمار کے بھرپور تعاون کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ملک کو ایسی حکومت چاہیئے جو تبدیلی لاسکے اور یہ تبدیلی عوام کی بھلائی میں ہو۔ پٹنہ میں نتیش کمار اور ڈپٹی چیف منسٹر تیجسوی یادو سے ملاقات کے دوران کے سی آر نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے غیر بی جے پی ریاستوں کو غیر مستحکم کرنے اور فنڈز کے معاملہ میں ناانصافی جیسے امور پر متحدہ جدوجہد کی ضرورت ظاہر کی۔ انہوں نے بی جے پی سے علحدگی اختیار کرتے ہوئے آر جے ڈی کی تائید سے تشکیل حکومت پر نتیش کمار اور تیجسوی یادو کو مبارکباد پیش کی۔ دونوں قائدین نے قومی سطح پر مخالف بی جے پی پارٹیوں کو متحد کرنے کیلئے ملکر کام کرنے سے اتفاق کیا۔ ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ مخالف بی جے پی طاقتوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ملک میں روایتی حکومتوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندوستان کو تبدیل کرنے والی حکومت چاہیئے۔ بی جے پی اقتدار میں ملک کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ جھوٹ کے ساتھ بی جے پی حکمرانی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو متحد کرنے کے مسئلہ پر نتیش کمار سے بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی جذبات کو بھڑکانے والے ملک کے مفاد میں نہیں ہیں۔ چین سے تقابل کریں تو ہم ترقی کے معاملہ میں کافی پیچھے ہیں۔ مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے سے ملک کا نقصان ہوگا۔ انہوں نے ایل آئی سی، ریلوے اور ایر پورٹس کو خانگیانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ مودی حکومت خانگیانے کی مہم پر ہے۔ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ سے حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں۔ نتیش کمار بھی بی جے پی مکت بھارت کے حق میں ہیں۔ بی جے پی کی مخالفت میں ہم تمام متحد ہیں۔ قیادت کون کرے گا اس کا فیصلہ الیکشن کے وقت کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وسیع تر مذاکرات کے ذریعہ قیادت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ عوام کی تائید سے بی جے پی مکت بھارت کی تشکیل کیلئے نتیش کمار کو ساتھ آنے کی اپیل کی گئی ہے۔ بی جے پی حکومت کو اقتدار سے بیدخل کرنا ملک کے مفاد میں ہے اور اسی ضمن میں ہم ملکر کام کریں گے۔ کے سی آر نے گذشتہ 8 برسوں میں مرکزی حکومت کے عوام دشمن فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ فنڈز کی اجرائی کے معاملہ میں ریاستوں سے ناانصافی کی جارہی ہے۔ روزگار اور مکانات کی فراہمی کے وعدہ کو فراموش کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے ساتھ ناانصافی کی گئی جس کے نتیجہ میں کسان احتجاج پر مجبور ہیں۔ بی جے پی اقتدار میں معاشی طور پر ملک کمزور ہوا ہے۔ ڈالر کے مقابلہ روپیہ کی قیمت میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔ غریب بیروزگار نوجوان اور خواتین کی ترقی اور بھلائی کیلئے کچھ نہیں کیا گیا۔ نتیش کمار نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کے مسئلہ پر کے سی آر سے تفصیلی بات چیت رہی۔ ر