بی جے پی میں ایٹالہ راجندر کی شمولیت یقینی

   

جے پی نڈا نے ٹی آر ایس سے اتحاد نہ کرنے اور مغربی بنگال کے طرز پر تلنگانہ میں مقابلہ کرنے کا بھروسہ دلایا
حیدرآباد :۔ سابق وزیر ایٹالہ راجندر کے بی جے پی میں شامل ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے ۔ بی جے پی قومی قیادت نے ٹی آر ایس سے اتحاد نہ کرنے کی طمانیت دی ہے اور مغربی بنگال کی طرز پر تلنگانہ میں مقابلہ کرنے کا ایٹالہ راجندر کو بھروسہ دلایا ہے ۔ ساتھ ہی چیف منسٹر کے سی آر کی ہراسانیوں سے پریشان ایٹالہ راجندر کے خاندان کا بھرپور ساتھ دینے کا تیقن دیا ۔ جس کے بعد ایٹالہ راجندر نے بی جے پی میں شامل ہونے کا من بنالیا ہے اور وہ کسی بھی وقت اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی بھی ہوسکتے ہیں ۔ ایٹالہ راجندر کے ساتھ ٹی آر ایس کے سابق رکن اسمبلی اے رویندر ریڈی بھی بی جے پی میں شامل ہوجائیں گے ۔ کل ایٹالہ راجندر نے دہلی پہونچکر بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا سے ملاقات کی ۔ جے پی نڈا نے انہیں بی جے پی میں شامل ہونے پر ہر طرح سے مدد کرنے کا تیقن دیا ۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے ، تلنگانہ بی جے پی امور کے انچارج ترون چوگ ، سابق رکن پارلیمنٹ جی ویویک کے ساتھ ایٹالہ راجندر اور اے رویندر ریڈی نے جے پی نڈا سے ملاقات کی ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ جے پی نڈا نے پہلے بنڈی سنجے اور ترون چوگ سے علحدہ ملاقات کی ۔ تلنگانہ کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ بنڈی سنجے نے انہیں بتایا کہ تلنگانہ کی تحریک میں حصہ لینے والوں کو کے سی آر حکومت کی جانب سے ستایا جارہا ہے ۔ انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں و پریشان کیا جارہا ہے ۔ حکومت کے خلاف آواز اٹھانے پر سیاسی انتقام لیا جارہا ہے ۔ مختلف جماعتوں کے قائدین تلنگانہ میں بی جے پی کو ٹی آر ایس کی متبادل کی طرح دیکھ رہے ہیں اور بی جے پی میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ ایٹالہ راجندر کو پہلے کابینہ سے برطرف کیا گیا ۔ ان کے ارکان خاندان کے خلاف اراضیات کے قبضوں کے مقدمات درج کردئیے گئے ۔ بعد ازاں جے پی نڈا نے ایٹالہ راجندر اور اے رویندر ریڈی کو اندر طلب کیا ۔ ایٹالہ راجندر نے بتایا کہ کے سی آر کی جانب سے انہیں اور ان کے ارکان خاندان کو ہراساں و پریشان کیا جارہا ہے ۔ وہ بی جے پی کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ مگر چیف منسٹر کے سی آر پارٹی حلقوں میں یہ تاثر دے چکے ہیں کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی ایک ہی ہے ۔ اگر بی جے پی آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس سے اتحاد کرے گی تو ان کا کیا ہوگا ۔ جے پی نڈا نے انہیں تیقن دیا کہ بی جے پی ہرگز ٹی آر ایس سے اتحاد نہیں کرے گی بلکہ تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے مغربی بنگال کی طرز پر انتخابی مقابلہ اور اپنی ساری طاقت جھونک دے گی ۔ آئندہ تلنگانہ میں بی جے پی کی حکومت تشکیل پائے گی ۔ ٹی آر ایس کے سابق رکن اسمبلی اے رویندر ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس قیادت نے انہیں ٹکٹ دے کر شکست دینے میں اہم رول ادا کیا اور کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے رکن اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شامل کیا گیا ۔ بنڈی سنجے نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر دولت کی سیاست پر بھروسہ کررہے ہیں ۔ کانگریس کے علاوہ دوسری جماعتوں سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کو دولت اور عہدوں کا لالچ دے کر ٹی آر ایس میں شامل کررہے ہیں ۔۔