بی جے پی میں شامل دیگر پارٹیوں کے قائدین سیاسی مستقبل کیلئے متفکر

   

انتخابات سے عین قبل نئی سیاسی جماعت کی تشکیل یا پھر علحدہ محاذ بنانے کی منصوبہ بندی
حیدرآباد۔یکم۔جون۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں مخالف کے سی آر قائدین جو مختلف سیاسی جماعتوں بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی میں ہیں وہ نئی سیاسی جماعت بنانے کی تیاری کر رہے ہیں یا اپنے مستقبل کے تحفظ کے لئے وہ کسی محاذ کے ساتھ متحدہ طور پر انتخابات سے عین قبل اپنے فیصلہ کا اعلان کریں گے! کھمم سے تعلق رکھنے والے جوپلی کرشنا راؤ ‘ پنگولیٹی سرینواس کے مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق عدم فیصلہ کے دوران اس بات کی اطلاعات موصول ہونے لگی ہیں کہ سابق رکن پارلیمنٹ چیوڑلہ مسٹر کونڈا ویشویشور ریڈی اور ایٹالہ راجندر جیسے سیکولر قائدین بھارتیہ جنتا پارٹی میں گھٹن محسوس کرنے لگے ہیںاور یہی وجہ ہے کہ پنگولیٹی سرینواس اور جوپلی کرشنا راؤ بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ سیکولر ذہنیت کے حامل قائدین جو بھارتیہ جنتا پارٹی میں ہیں اور مخالف کے سی آر ہیں اپنے طور پر نئی پارٹی یا کانگریس میں شمولیت کے متعلق غور کرنے لگے ہیں ۔ایٹالہ راجندر رکن اسمبلی حضور آباد و رکن عاملہ بھارتیہ جنتا پارٹی بی جے پی سے دوری اختیار کرنے لگے ہیں!بتایاجاتا ہے کہ ایٹالہ راجندر نے فیصلہ کیا ہے کہ انہیں پارٹی کی جانب سے معطل یا برطرف کئے جانے تک وہ پارٹی میں برقرار رہیں گے لیکن ضروری نہیں کہ وہ پارٹی کی تمام سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ایٹالہ راجندر اور ریاستی صدر بی جے پی بنڈی سنجے کے درمیان جاری اختلافات کے باعث پارٹی کے قومی قائدین نے ایٹالہ راجندر پر بنڈی سنجے کو فوقیت دینے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ بنڈی سنجے کی قیادت کو تبدیل نہ کرنے کے فیصلہ سے ایٹالہ راجندر خوش نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود وہ پارٹی کے خلاف جاتے ہوئے کوئی اقدام نہیں کریں گے اور اگر پارٹی ان کے خلاف کوئی کاروائی کا فیصلہ کرتی ہے تو وہ اسے قبول کرتے ہوئے پارٹی سے علحدگی اختیار کرسکتے ہیں۔ ایٹالہ راجندر کو تلنگانہ راشٹر سمیتی ( بھارت راشٹر سمیتی) سے بھی جب تک معطل نہیں کیا گیا وہ پارٹی میں برقراررہے بلکہ پارٹی کے تمام اجلاسوں میں شرکت کرتے رہے اور جب پارٹی نے انہیں معطل کرنے کا اعلان کیا تو اس کے بعد ہی انہوں نے بی جے پی میں شمولیت کا اعلان کیاتھا۔اسی طرح ایٹالہ راجندر بی جے پی سے بھی علحدگی اپنے طور پر اختیار نہیں کریں گے بلکہ اگر پارٹی ہی ان کے خلاف کوئی کاروائی کرتی ہے تو وہ اسے قبول کرتے ہوئے علحدگی اختیار کرلیں گے۔کھمم کے بی آر ایس سے معطل کردہ قائدین جوپلی کرشنا راؤ اور پنگولیٹی سرینواس ریڈی نے گذشتہ دنوں جو بات کہی کہ مخالف کے سی آر قائدین جیسے ایٹالہ راجندر وغیرہ ان سے رابطہ میں ہیں ۔بتایاجاتا ہے کہ کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد تلنگانہ میں سیکولر قائدین جو بی آر ایس سے دور ہوچکے تھے کانگریس کے سیاسی طور پر کمزور ہونے کے سبب بی جے پی میں شامل ہو رہے تھے وہ اب اپنا علحدہ محاذ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ یہ قائدین کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے کے بجائے اپنے طور پر علحدہ محاذ کی تیاری اور کانگریس اور دیگر سیکولر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں ۔م