بی جے پی میں 75سال پر ریٹائرمنٹ کا اصول نہیں:مہاراشٹرا یونٹ

   

ممبئی : مہاراشٹرا بی جے پی کے صدر چندر شیکھر باونکولے نے کہا ہے کہ پارٹی میں ایسا کوئی اصول نہیں کہ کسی رہنما کو 75 سال کی عمر میں ریٹائر ہونا چاہیے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کا فیصلہ ملک کے عوام کریں گے ، نہ کہ شیو سینا کے رہنما سنجے راوت جیسے افراد ۔باونکولے نے سنجے راوت کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا کہ وزیر اعظم مودی نے ناگپور میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کا دورہ کر کے اشارہ دیا ہے کہ وہ سیاست سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس بیان کو محض “سیاسی شعبدہ بازی” قرار دیا۔باونکولے نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا، “بی جے پی میں ایسا کوئی اصول نہیں کہ وزیر اعظم مودی کو 75 سال کی عمر کے بعد سیاست سے ریٹائر ہونا چاہیے۔
اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے ۔” انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی آئین میں بھی ایسی کوئی پابندی نہیں ہے ۔انہوں نے سابق وزرائے اعظم کی مثال دیتے ہوئے کہا، “اٹل بہاری واجپائی نے 79 سال کی عمر تک وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں، جبکہ مرارجی دیسائی 83 سال اور ڈاکٹر منموہن سنگھ 81 سال کی عمر تک اس عہدے پر فائز رہے ۔ لیکن سنجے راوت، جو بی جے پی کے خلاف تعصب میں اندھے ہو چکے ہیں، شاید یہ سب بھول گئے ہیں۔”باونکولے نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کی مدت کار کا فیصلہ عوامی حمایت اور انتخابی نتائج سے ہوتا ہے ، نہ کہ اپوزیشن کے بیانات سے ۔ انہوں نے کہا، “مودی جی کی قیادت کا فیصلہ ملک کے عوام کرتے ہیں، سنجے راوت یا اپوزیشن نہیں۔”بی جے پی لیڈر نے یہ بھی کہا کہ نریندر مودی نے 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کا عزم کیا ہے اور یہ وژن ان ہی کی قیادت میں مکمل کیا جائے گا۔قبل ازیں، مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بھی پیر کے روز کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی 2029 کے بعد بھی ملک کی قیادت کرتے رہیں گے ۔