’’بی جے پی نفرت کی سیاست پر زندہ ہے، کانگریس کا مجلس سے کوئی اتحاد نہیں ‘‘

   

گاندھی بھون کے حالیہ اجلاس میں میناکشی نٹراجن نے وضاحت کردی : عامر علی خان
بی جے پی لوجہاد، لینڈ جہاد کے بعد شربت جہاد کا نعرہ دے رہی ہے ، جبکہ کانگریس ، اتحاد ، مساوات اور حقیقی ترقی کیلئے کھڑی ہے
حیدرآباد۔ 19 اپریل (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خان نے ہفتہ کو حیدرآباد مجالس مقامی کونسل انتخابات میں مقابلہ کرنے کے تعلق سے پارٹی کے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا یہ فیصلہ خالصتاً اِسٹرٹیجک اور عددی طاقت پر مبنی تھا۔ حیدرآباد میں میڈیا نمائندوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عامر علی خان نے کہا کہ کانگریس کے پاس ایم ایل سی نشست پر کامیابی حاصل کرنے کیلئے مطلوبہ تعداد میں نہیں ہے، ایسے میں انتخابی میدان میں اُترنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے جس کا نتیجہ عددی طاقت پر مبنی ہے۔ تمام سیاسی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہماری پارٹی نے مقابلہ نہ کرنے کا سادہ اور شفاف فیصلہ کیا ہے۔ محض رسمی طور پر الیکشن لڑنا بے معنی ہے۔ رکن قانون ساز کونسل نے کانگریس کے اس فیصلے پر کہ بی جے پی کی جانب سے کی جانے والی تنقیدیں کانگریس اور مجلس کے درمیان سازباز ہوجانے کے لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ بی جے پی کا یہ الزام نہ صرف جھوٹا اور بے بنیاد ہے بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔ جناب عامر علی خان نے بی جے پی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے اسے فرقہ وارانہ پولرائزیشن کی دانستہ حکمت عملی قرار دیا اور کہا کہ بی جے پی نفرت کی سیاست پر زندہ ہے۔ جب بھی انہیں حقیقی مسائل کا سامنا ہوتا ہے جیسے مہنگائی، بیروزگاری یا تعلیم وہ لوجہاد، لینڈ جہاد اور یہاں تک کہ شربت جہاد جیسی مضحکہ خیز نعروں کا سہارا لیتے ہوئے اہم موضوعات سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتی ہے۔ روایتی مشروب ’’روح افزا‘‘ پر حالیہ تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے جناب عامر علی خان نے کہا کہ موسم گرما کے مشروب کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دے دیا گیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی اشتعال انگیزی اور پولرائز کرنے کیلئے کتنی بے چین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پر کسی بھی بامعنی گفتگو میں شامل ہونے سے بی جے پی کے گریز نے اس کی ترجیحات کو بے نقاب کردیا ہے۔ بی جے پی کسانوں، طلبہ یا ملازمتوں کے بارے میں بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ صرف وہ چاہتی کہ ملک کو تقسیم کردیا جائے۔ مجلس کے ساتھ کانگریس پارٹی کے تعلقات کے بارے میں جاری قیاس آرائیوں کا جواب دیتے ہوئے جناب عامر علی خان نے اس کی واضح تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہے، ہم نظریاتی طور پر مختلف پارٹیاں ہیں۔ راہول گاندھی نے خود بی جے پی اور مجلس دونوں کو فرقہ پرست جماعتیں قرار دیا ہے جو اپنے اپنے سیاسی فائدے کیلئے مذہبی تقسیم کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی بھون میں کانگریس کے ایک حالیہ جائزہ اجلاس کے دوران اس موقف کا اظہار کیا گیا ہے جہاں تلنگانہ کانگریس کی انچارج میناکشی نٹراجن نے واضح کردیا ہے کہ مجلس کے ساتھ کسی قسم کے اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ٹمریز کے صدر فہیم قریشی کا نام مجلس کے ہیڈکوارٹرس دارالسلام میں وقف ترمیمی ایکٹ پر ہونے والے جلسہ کے مقررین میں شامل کئے جانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے عامر علی خان نے کہا کہ انہوں نے صرف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے جاری کردہ اشتہار دیکھا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ فہیم قریشی نے اس جلسہ میں شرکت کی تصدیق کی ہے یا نہیں۔ کانگریس کے موقف کو دہراتے ہوئے جناب عامر علی خان نے کہا کہ پارٹی فرقہ وارانہ سیاست کے جال میں پڑے بغیر آئینی اقدار اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے۔ چاہے بی جے پی ہو یا مجلس، دونوں ہی جماعتیں عوام کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں جبکہ کانگریس اتحاد، مساوات اور حقیقی ترقی کیلئے کھڑی ہے۔2