بی جے پی نے تعلیمی نظام کو تباہ کردیا ہے :اکھلیش

   

لکھنو۔24 ۔فروری (یو این آئی)سماجوادی پارٹی سربراہ و سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے راجیہ سبھا میں مرکزی حکومت کی جانب سے گزشتہ پانچ برسوں میں 18,727 سرکاری اسکول بند کیے جانے کے اعتراف کے بعد بی جے پی کی قیادت والی اتر پردیش حکومت پر سخت حملہ کیا ہے ۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی نے تعلیمی نظام کو تباہ کر دیا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اترپردیش میں انضمام کے نام پر 27 ہزار سرکاری اسکول بند کرنے کی سازش کی گئی۔ انہوں نے اسے ملک کے مستقبل کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا بی جے پی اور اس کے حامی چاہتے ہیں کہ صرف امیر طبقے کے بچے تعلیم حاصل کریں جبکہ پسماندہ اور محروم طبقات کے بچے مزدور ہی بنے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی تعلیم مخالف ذہنیت صرف کتابیں تقسیم کرنے تک محدود نہیں بلکہ سرکاری اسکول بند کرنے تک جا پہنچی ہے ۔ تعلیم شعوراورسائنسی فکر کو فروغ دیتی ہے ، جو تنگ نظری اور قدامت پسندی کو چیلنج کرتی ہے ۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ بچوں کو تعلیم کے حق سے محروم کرنا سماجی جرم ہے ۔ سرکاری تعلیم کے خاتمے سے سب سے زیادہ نقصان غریب طبقات کو ہوگا کیونکہ اس سے نہ صرف تعلیم بلکہ مڈ ڈے میل جیسی غذائی سہولت بھی متاثر ہوگی، جس کا اثر بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر پڑے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں تعلیم ایک فیصلہ کن مسئلہ بنے گا اور اس بارخواتین بی جے پی کو شکست دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بجلی وپانی کے بل، گیس، پٹرول، ڈیزل، موبائل ریچارج، ریل و بس کرایوں اور دیگر ٹیکسوں میں اضافے سے عوام پریشان ہیں اور اب حقیقت کو سمجھ چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کی پالیسیوں سے اساتذہ، شکشا متر، اسکول ملازمین اور طلبہ کے سرپرستوں میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے ، جو آئندہ انتخابات میں حکومت کے خلاف نظر آئے گی۔