شہریت ترمیمی قانون تشویشناک ، صدر امریکہ ٹرمپ کا دورہ ہند سے قبل امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذاہب آزادی کا احساس
نئی دہلی 20 فروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذاہب آزادی پیانل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہریت قانون اور این آر سی بی جے پی کے ہندوتوا نظریہ پر مبنی ہے۔ مودی حکومت کی جانب سے لایا گیا شہریت ترمیمی قانون ہندوستانی مسلمانوں کے لئے خطرناک ہے۔ امریکہ میں ایک لیجسلیٹیو رپورٹ میں یہ اعلان کیا گیا کہ بی جے پی کا ہندوتوا نظریہ ہی ہندوستانی مسلمانوں کو بے وطن کرنے کے لئے ہے۔ مسلمانوں سے مکت ہندوستان بنانے کا خواب پورا کرنے کی مہم کے تحت سخت قوانین وضع کئے گئے ہیں۔ اس پیانل نے تشویش ظاہر کی کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کردیا جائے گا۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ بی جے پی کا ہندوتوا نظریہ پوری شدت سے ایک فرقہ کے خلاف مسلط کردیا جارہا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون ایک ایسا ہتھیار ہے جس میں مسلمانوں کو ابتداء میں این آر سی سے ہٹادیا جائے گا اور اس کے بعد سی اے اے کے جال میں پھانس کر انھیں بے یار و مددگار چھوڑا جائے گا۔ مسلمانوں کو ان کے ہی ملک سے نکال باہر کردیا جائے گیا پھر ایک طویل مدت تک ڈیٹنشن سنٹرس میں رکھا جائے گا۔ یو ایس سی آئی آر ایف کی جانب سے تیار کردہ سی اے اے پر نئی حقیقت پر مبنی رپورٹ کو منظر عام پر لایا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں ان تمام تلخ حقائق کو اُجاگر کیا گیا ہے جس میں بی جے پی کے قائدین کے اشتعال انگیز بیانات کے نقول بھی شامل ہیں۔ بی جے پی کے ارکان میں مسلمانوں کے تعلق سے جو رائے پائی جاتی ہے اس کو قلمبند کرکے رپورٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ بی جے پی دراصل مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنا چاہتی ہے۔ امریکی پیانل کے یہ تاثرات اور رپورٹ اس لئے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ ہندوستان کے دورہ پر جارہے ہیں۔ ان کے دورہ سے 3 دن قبل اس رپورٹ کا منظر عام پر آنا اہمیت رکھتا ہے۔ امریکی کانگریس میں ایمی برا اور جارج ہولڈنگ نے خارجہ سکریٹری ہرش سرنگلا سے ملاقات کی ہے۔ ہندوتوا کی سیاسی سوچ سے جنم لینے والے سوالات میں مسلمانوں کی ہندوستانی شہریت کے جائز ہونے کا مسئلہ پیدا کرتے ہیں۔ ہندوتوا نظریہ کے حامل افراد نے مسلمانوں کے عقائد کو مزید کمزور کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ مسلمانوں کو ان کے ملک سے نکال دیا جائے گا یا پھر ان کے ایمان کو کمزور کرکے انھیں ہندوتوا کے نظریہ سے وابستہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کی مثال بی جے پی کے چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ ہیں جو مسلمانوں کے خلاف مہم چلارہے ہیں۔ انھوں نے 2005 ئمیں ہی وعدہ کیا تھا کہ ہندوستان کو دیگر مذاہب سے پاک کردیا جائے گا۔ اُنھوں نے اس صدی کو ’’ہندوتوا کی صدی‘‘ بھی کہا تھا۔ دائیں بازو کی جماعت کو مسلمان کھٹک رہے ہیں۔ ایک دوسری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بی جے پی یا ہندوتوا تنظیموں کو مسلمانوں سے نفرت، آزادی کے دوران یا تقسیم ہند کے موقع پر جن مسلمانوں نے ہندوستان میں رہنے کو ترجیح دی تھی انھیں اب ہندوستان سے باہر کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ ہندوتوا طاقتیں شروع سے ہی منظم طریقہ سے مسلمانوں کے خلاف زہر اُگل کر جھوٹ پر مبنی پروپگنڈہ کے ساتھ قوت پیدا کرتے آرہے ہیں۔ ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ تقسیم ہند کے وقت صرف مسلمان ہی متاثر نہیں ہوئے ہیں بلکہ ہندو بھی پریشان ہوئے تھے۔ ہندوتوا کے ذریعہ اپنے مطلب کی قوم پرستی کا پروپگنڈہ کرنے والی طاقتوں نے مسلمانوں کو ہندوستان کا دشمن قرار دیا ہے اور ان کی حب الوطنی کو مشکوک بنادیا ہے۔
