بی جے پی کجریوال کے حلقہ انتخاب میں نقد رقم تقسیم کر رہی ہے: آتشی

   

وزیر اعلیٰ کا الزام مسترد ، راشٹریہ سوابھیمان کے تحت خواتین کی امداد کرنے پرویش ورما کی وضاحت

نئی دہلی: دہلی کی وزیر اعلیٰ آتشی نے آج الزام لگایا کہ بی جے پی قومی دارالحکومت میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل عآپ کے سربراہ اروند کیجریوال کے نئی دہلی حلقے میں خواتین کو نقد رقم تقسیم کر رہی ہے۔عآپ کی سینئر رہنما آتشی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ونڈسر پلیس میں بی جے پی کے سابق ایم پی پرویش ورما کی رہائش گاہ پرجھگی جھونپڑیوں میں رہنے والی ہر ایک خاتون کو 1100 روپے دیے گئے ہیں اور ان کے ووٹر آئی ڈی کارڈ کی معلومات بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔ورما نے آتشی کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا اور کہا کہ یہ رقم ان کے مرحوم والد اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ صاحب سنگھ ورما کی تشکیل کردہ این جی اوراشٹریہ سوابھیمان کی مہم کے حصے کے طور پر تقسیم کی گئی ہے۔آتشی نے کہاکہ میں دہلی پولیس، سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے بنگلہ پر چھاپہ مارنے کا مطالبہ کرتی ہوں جہاں کروڑوں روپے رکھے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عآپ اس سلسلے میں پولیس اور الیکشن کمیشن سے باضابطہ شکایت کرے گا اور ورما کی گرفتاری کا مطالبہ کرے گا۔ساتھ ہی کجریوال نے الزام لگایا کہ ان کے حلقے کے لوگوں میں نقد رقم تقسیم کی جا رہی ہے۔مغربی دہلی سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ ورما نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے ان سے نئی دہلی اسمبلی سیٹ سے الیکشن لڑنے کی تیاری شروع کرنے کو کہا تھا۔ورما نے ایک بیان میں کہا کہ راشٹریہ سوابھیمان کی اسکیم کے تحت معاشرہ کے غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ماہانہ 1100روپے کی مالی امداد دی جا رہی ہے۔ورما نے کہاکہ انہوں نے خواتین کا درد دیکھا جسے اروند کجریوال 11 سال سے نہیں دیکھ سکے تھے۔ وہ پریشان تھیں، میں نے فیصلہ کیا کہ ہم انہیں ماہانہ 1100 روپے دیں گے۔کم از کم میں اروند کجریوال کی طرح شراب تقسیم نہیں کر رہا ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ میں لوگوں کی مدد کر رہا ہوں۔ورما نے کہا کہ راشٹریہ سوابھیمان لوگوں کی مدد کرتا ہے اور اس نے گجرات میں زلزلے سے تباہ ہونے والے دو گاؤں اور اڈیشہ میں طوفان سے تباہ ہونے والے چار گاؤں کو دوبارہ آباد کرنے میں بھی مدد کی ہے۔انہوں نے کہا کہ کجریوال اور آتشی کتنا ہی شور مچائیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ خواتین کی مدد کرتے رہیں گے اور کوئی بھی عورت ان کی رہائش گاہ سے خالی ہاتھ واپس نہیں آئے گی۔اگلے سال فروری میں دہلی کی 70 اسمبلی سیٹوں پر انتخابات منعقد شدنی ہیں۔