بی جے پی کو آبادیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنا ہوگا:نتن نبین

   

نئی دہلی، 20 جنوری (یو این آئی) تمل ناڈو، آسام اور مغربی بنگال سمیت کچھ ریاستوں میں آبادیاتی تبدیلی کو ایک بڑا چیلنج قراردیتے ہوئے ، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نئے صدر نتن نبین نے منگل کو کہا کہ پارٹی کارکنان کو اس چیلنج سے نمٹنا ہوگا۔اپنے انتخاب پر یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نبین نے پانچ ریاستوں میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات اور وہاں آبادیاتی تبدیلی سے درپیش چیلنجوں کا ذکرکیا۔ انہوں نے کہا، “اگلے چند مہینوں میں تمل ناڈو، آسام، بنگال، کیرالہ، اور پڈوچیری میں انتخابات ہونے والے ہیں اور وہاں کی ڈیمو گرافی بدلنے پر بحث جاری ہے ۔ یہ ہمارے لیے ایک چیلنج ہے ، لیکن ہمیں پورا یقین ہے کہ بی جے پی کے مضبوط کارکنان سب کچھ ممکن بنائیں گے ۔ نبین نے کہا کہ بی جے پی تنظیم صرف ایک نظام نہیں ہے ، بلکہ ایک ثقافت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ”قومی صدر کے طور پر میرا انتخاب ایک عام کارکن کے غیر معمولی سفر اور خدمت کے پختہ عزم کا اعزاز ہے ۔” انہوں نے اس نئی ذمہ داری کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی، سبکدوش ہونے والے صدر جے پی نڈا اور پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ”میں تمام ریاستی اور پارٹی کے سینئر لیڈروں کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس عہدہ کے لیے میرا نام تجویز کیا”۔ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کے نو منتخب صدر نے کہا کہ ملک کو ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کے وزیر اعظم مودی کے عزم کو پورا کرنے کے لئے ہم سب کو مکمل اتحاد اور عزم کے ساتھ انتھک محنت کرنی ہوگی۔ انہوں نے سابق صدر جے پی نڈا کی قیادت کے لیے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں تنظیم نے بے مثال توسیع دیکھی اور کارکن پر مبنی سیاست اورخدمت کے کلچر کو مزید تقویت ملی۔ اس تنظیمی روایت کو آگے بڑھانے کا میرا مشترکہ عزم ہے ۔نبین نے کہا کہ بی جے پی ملک کی واحد پارٹی ہے جہاں اعلیٰ عہدوں اور اہم ذمہ داریوں کے لیے کسی خاص خاندان سے تعلق ضروری نہیں ہے ۔