بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانا سب سے بڑی حب الوطنی : کجریوال

   

Ferty9 Clinic

اس وقت ملک کا کوئی بھی طبقہ برسر اقتدار پارٹی سے خوش نہیں ‘چیف منسٹر دہلی کا خطاب

نئی دہلی :عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے کہا ہیکہ 2024 میں بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانا سب سے بڑی حب الوطنی ہے۔ کجریوال نے کہا کہ دوسری پارٹیوں کے لوگ اکثر ان کے علاقے میں غنڈہ گردی کرتے اور بدسلوکی کرتے نظر آتے ہیں، اس لیے لوگ انہیں پسند نہیں کرتے۔ ہماری پارٹی کے رضاکار بہت مہذب لوگ ہیں۔ یہی عام آدمی پارٹی کی پہچان ہے۔انہوں نے کہا کہ 2024 کے الیکشن آنے والے ہیں۔ ملک کے عوام نے 2014 اور 2019 میں بی جے پی کو بھاری اکثریت سے جتوایا تھا۔ اگر بی جے پی کے لوگ چاہتے تو ملک کو بے پناہ ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے تھے لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کا ماحول چاروں طرف سے بہت خراب ہو چکا ہے۔ لوگ آپس میں لڑنے لگے ہیں۔ اس سے پہلے معاشرے میں اس قدر انتہائی درجہ پر پولرائزیشن کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اتنی لڑائیاں، غنڈہ گردی، کرپشن اور لوٹ مار کبھی نہیں دیکھی گئی۔ کہیں بھی امن نظر نہیں آتا۔ امن نہ ہو تو ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اس وقت ملک کا کوئی طبقہ ان سے خوش نہیں ہے۔ ہر کوئی اداس ہے۔ انہوں نے ملک کی معیشت سمیت سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سب سے بڑی حب الوطنی انہیں 2024 میں اقتدار سے ہٹانا ہے۔ تب ہی ملک ترقی کرے گا۔انہوں نے جو فیصلے کئے کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ یہ فیصلے کیوں کیے گئے۔ وہ فیصلے کرتے ہیں یا ان کی جگہ کوئی اور فیصلہ کرتا ہے۔ جب نوٹ بندی ہوئی تو بہت سی افواہیں تھیں کہ بہت زیادہ بدعنوانی ہو رہی ہے۔ 30‘30 فیصد کمیشن لے کر نوٹ بدلے جا رہے ہیں۔ عام لوگ قطاروں میں کھڑے ہیں لیکن بڑے لوگوں کے پچھلے دروازوں سے نوٹ بدلے جا رہے تھے۔ سات سال بھی نہیں گزرے تھے کہ انہوں نے دو ہزار روپے کے نوٹ بھی بند کر دیے۔ کوئی سمجھ نہیں پا رہا کہ وہ دو ہزار روپے کا نوٹ کیوں لے کر آئے تھے؟ اس قسم کی ڈیمونیٹائزیشن دنیا کے کسی ملک میں نہیں دیکھی گئی۔ 2016 میں نوٹ بندی کی وجہ سے، ہندوستان کی معیشت کم از کم 10 سال پیچھے رہ گئی ہے۔ لوگوں کے کاروبار، کارخانے اور بزنس بند ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ آج پورے ملک کے تاجر غمزدہ ہیں اور سب کہتے ہیں کہ پہلے کاروبار اچھا چلتا تھا۔ اب کاروبار کو زبردست نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے پہلے نوٹ بندی کی اور پھر جی ایس ٹی لائے۔ ان کی پالیسیوں سے سماج کا ہر طبقہ پریشان ہے۔اروند کجریوال جس انڈیا اتحاد کی بات کررہے ہیں اس میں 26 پارٹیاں شامل ہیں۔ اس میں کانگریس، ٹی ایم سی، ڈی ایم کے، اے اے پی، جے ڈی یو، آر جے ڈی، جے ایم ایم، این سی پی(شرد دھڑا)، شیوسینا (ادو دھڑا)، ایس پی، ایس سی، پی ڈی پی، سی پی ایم، سی پی آئی، آر ایل ڈی، ایم ڈی ایم کے، کے ایم ڈی کے، وی سی کے آر ایس پی، سی پی آئی شامل ہیں۔ ایم ایل (لبریشن)، فارورڈ بلاک، آئی یو ایم ایل، کیرالہ کانگریس (جوزف)، کیرالہ کانگریس (مانی)، اپنا دل (کامیروادی) اور ایم ایم کے۔