سیلاب کے وقت آنے کے بجائے انتخابی مہم کیلئے امیت شاہ پہنچے، حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں کے ٹی آر کا کامیاب روڈ شو
حیدرآباد۔ ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے بلدی انتخابی مہم کے آخری دن گوشہ محل ، صنعت نگراور سکندرآباد اسمبلی حلقوں میں روڈ شو کے ذریعہ ٹی آر ایس امیدواروں کی مہم میں حصہ لیا۔ کے ٹی آر کے روڈ شو غیر معمولی کامیاب رہے اور ہزاروں کی تعداد میں عوام نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیتے ہوئے ٹی آر ایس کی تائید کا اظہار کیا۔ کے ٹی آر نے بی جے پی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ’’ بی جے پی صرف دو چیزیں جانتی ہیں ایک جملہ اور دوسرا حملہ ۔‘‘ بے بنیاد الزامات کے ذریعہ حکومت پر حملہ کرنا اور جملہ بازی کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنے کے سوا بی جے پی کو کچھ نہیں آتا۔ کے ٹی راما راؤ نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے سوال کیا کہ این ڈی اے حکومت نے گذشتہ 6 برسوں میں حیدرآباد کیلئے کیا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں بین الاقوامی کمپنیوں امیزان، ایپل اور دیگر آئی ٹی کمپنیاں کس نے حاصل کی ہیں؟۔ حیدرآباد کو انفارمیشن ٹکنالوجی کا مرکز بنانے سے متعلق امیت شاہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ بی جے پی نے یو پی اے حکومت کی جانب سے حیدرآباد میں منظورہ آئی ٹی آئی آر پراجکٹ کو منسوخ کردیا جس کے نتیجہ میں تلنگانہ کے نوجوانوں کی امیدیں مایوسی میں تبدیل ہوگئیں۔ امیت شاہ کا کہنا ہے کہ ہماری تہذیب نظام کی ہے، مہاتما گاندھی جو گجرات سے تعلق رکھتے تھے کہا تھا کہ حیدرآبادی تہذیب گنگا جمنی ہے اور عوام پُرامن زندگی بسر کرتے ہیں۔ حیدرآباد ہندوستان کیلئے ایک مثال ہے۔ کے ٹی آر نے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کے خاتمہ سے متعلق امیت شاہ کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ڈونالڈ ٹرمپ کے دورہ کے موقع پر نئی دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے۔ امریکہ کے نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے دہلی کے امیج کو متاثر ہونے والی رپورٹ شائع کی تھیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی جے پی قائدین تعمیر کے بجائے تخریب کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جبکہ ٹی آر ایس نئی سڑکوں کی تعمیر اور نئے ڈرینج نظام کی بات کررہی ہے۔ سیلاب کے متاثرین کو کار کے بدلے کار اور بائیک کے بدلے بائیک سے متعلق بی سنجے کے وعدہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا بی سنجے انشورنس ایجنٹ ہیں یا پارٹی کے صدر۔ انہوں نے کہا کہ عثمان ساگر ذخیرہ آب 1920 میں تعمیر کیا گیا تھا جس کے ذریعہ حیدرآباد کو پانی کی سربراہی کی جاتی ہے۔ کسی قائد نے یہ نہیں سوچا کہ حیدرآباد کی آبادی میں اضافہ ہوگا لہذا ذخیرہ آب کو توسیع دی جانی چاہیئے۔ صرف کے سی آر نے اس بارے میں فکرمندی کا مظاہرہ کیا کیشو پورم ذخیرہ آب کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا جس کے ذریعہ حیدرآباد کو پانی کی سربراہی عمل میں لائی جائے گی۔ کے ٹی آر نے گذشتہ 6 برسوں میں حکومت کے فلاحی اقدامات کا حوالہ دیا اور کہا کہ کلیان لکشمی، شادی مبارک، کے سی آر کٹ، انا پورنا کینٹین، بستی دواخانے، اوورسیز اسکالر شپ اسکیم ان میں سے چند مثالی اسکیمات ہیں ۔ بحران کے موقع پر ہم ہمیشہ عوام کے ساتھ رہتے ہیں اور سیلاب کے متاثرین میں 10 ہزار روپئے کی امداد کی تقسیم کا 7 ڈسمبر کے بعد دوبارہ آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت میں ہتھراس کا عصمت ریزی کا معاملہ منظر عام پر آیا۔ حیدرآباد گذشتہ چھ برسوں سے پرامن ہے اور فرقہ وارانہ نوعیت کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔ جو لوگ مذہب کے نام پر عوام کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ ایسی طاقتوں کی ہرگز تائید نہ کریں۔