بی جے پی کو حد سے زیادہ خوداعتمادی لے ڈوبی

   

پارٹی ورکرس اور قائدین کا وزیراعظم مودی پر انحصار، عوام سے دوری، آر ایس ایس کا ردعمل
نئی دہلی: لوک سبھا کے انتخابی نتائج حد سے زیادہ خوداعتمادی کی کیفیت میں مبتلا بی جے پی ورکرس اور کئی پارٹی قائدین کیلئے ہوش اڑا دینے والے رہے جبکہ وہ مگن تھے کہ وزیراعظم نریندر مودی کا کرشمہ انہیں پھر ایک بار جیت تک پہنچا دیگا اور اسی زعم نے وہ عوام تک رسائی سے گریزاں رہے۔ آر ایس ایس کے ترجمان میگزین آرگنائزر کے تازہ شمارہ میں شائع ایک آرٹیکل میں حالیہ عام انتخابات کے نتائج پر یہ تبصرہ کیا گیا ہے۔ آرٹیکل میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ بی جے پی کی محاذی تنظیم نہیں ہے۔ بی جے پی قائدین اور اس کے ورکرس نے آر ایس ایس والنٹیرس سے رابطہ قائم رکھنے اور انتخابی کام میں ان سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ سینئر مخلص ورکرس جو برسوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں نظرانداز کیا گیا۔ آر ایس ایس کے تاحیات رکن رتن شاردا نے آرٹیکل میں نشاندہی کی کہ 2024ء کے انتخابی نتائج نے بی جے پی کو حقیقت حال سمجھائی ہے۔ پارٹی کارکنوں اور کئی قائدین نے نہیں سمجھا کہ وزیراعظم مودی کا 400 پار کا نعرہ ان کیلئے ٹارگٹ اور اپوزیشن کو چیلنج کے طور پر تھا۔ بی جے پی والوں نے عوام میں اٹھنے والے مسائل پر توجہ نہیں کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بی جے پی 240 نشستوں کے ساتھ اکثریت سے کافی پیچھے رہ گئی لیکن این ڈی اے کو 293 سیٹوں کے ساتھ مینڈیٹ ملا۔ کانگریس نے 99 جبکہ انڈیا بلاک نے 234 نشستیں حاصل کئے۔ 2 آزاد ارکان کی کانگریس کو حمایت کے ساتھ انڈیا اتحاد کی عددی طاقت 236 ہوگئی ہے۔ رتن نے کہا کہ ٹارگٹ کی تکمیل انتخابی میدان پر محنت کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے، سوشل میڈیا پر پوسٹرس اور سیلفی شعر کرنے سے مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔