بی جے پی کو شکست دینے بائیں بازو سے مفاہمت کیلئے کے سی آر کی حکمت عملی

   


2014 کے بعد پہلی مرتبہ ماقبل چناؤ مفاہمت کا امکان، سی پی آئی اور سی پی ایم نے نشستوں کی فہرست حوالے کردی، سیکولر ووٹ کی تقسیم روکنا اہم مقصد

حیدرآباد۔/28 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں بی جے پی اور کانگریس کی بڑھتی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آئندہ عام انتخابات کی حکمت عملی پر ابھی سے سرگرمی سے کام کرنا شروع کردیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ریاست میں بائیں بازو جماعتوں کے ووٹ بینک کو حاصل کرتے ہوئے 2023 میں دوبارہ برسراقتدار آنے کے مقصد سے چیف منسٹر بائیں بازو جماعتوں کے ساتھ ماقبل انتخابات مفاہمت کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ سی پی آئی اور سی پی ایم کا ریاست کے تقریباً 8 اضلاع میں خاصہ اثر ہے اور ماقبل انتخابات مفاہمت کی صورت میں بائیں بازو جماعتیں ٹی آر ایس کے حق میں کھل کر مہم چلاسکتی ہیں۔ تلنگانہ میں بی جے پی کی فرقہ پرست سیاست سے نمٹنے میں سیکولر ووٹ بینک کو متحد کرنا ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق انتخابی حکمت عملی کے ماہر پرشانت کشور نے کے سی آر کو بائیں بازو جماعتوں سے ماقبل الیکشن مفاہمت کا مشورہ دیا تاکہ مخالف بی جے پی ووٹوں کو تقسیم سے روکا جائے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے ریاست کے تمام ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کی تائید کی ہے۔ 2014 میں برسراقتدار آنے کے بعد سے ٹی آر ایس پہلی مرتبہ ماقبل انتخابات مفاہمت پر غور کررہی ہے۔ 2014 سے اب تک ٹی آر ایس نے اپنے طور پر مقابلہ کیا تھا جبکہ 2004 اور 2009 میں متحدہ آندھرا پردیش کے الیکشن میں کانگریس اور بائیں بازو جماعتوں سے 2004 اور 2009 میں تلگودیشم اور بائیں بازو جماعتوں سے مفاہمت کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ منوگوڑو ضمنی چناؤ میں سی پی آئی اور سی پی ایم کی تائید کے بعد چیف منسٹر نے ماقبل انتخابات مفاہمت کی تجویز پیش کرتے ہوئے بات چیت شروع کی ہے۔ پارٹی قائدین کے علاوہ بائیں بازو قائدین سے بھی اس سلسلہ میں مشاورت کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ سی پی آئی اور سی پی ایم نے 2023 اسمبلی انتخابات میں اپنی امکانی نشستوں کی فہرست ٹی آر ایس کو پیش کردی ہے تاکہ ابھی سے ماقبل چناؤ مفاہمت کی راہ ہموار ہوسکے۔ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر نے فہرست پر ہمدردانہ غور کا تیقن دیا ہے اور کہا کہ منوگوڑو ضمنی چناؤ کے بعد قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ سی پی آئی نے کھمم میں کتہ گوڑم اور وائرا کے علاوہ کریم نگر میں حسن آباد اور نلگنڈہ میں دیور کنڈہ، منوگوڑو جبکہ محبوب نگر میں کولا پور، عادل آباد میں بیلم پلی اور میدک میں نرسا پور نشستوں پر دعویداری پیش کی ہے۔ سی پی ایم نے متحدہ اضلاع نلگنڈہ، کھمم ، رنگاریڈی اور عادل آباد میں تقریباً 8 نشستوں پر اپنی دعویداری پیش کی گئی۔ر