مسلم سماج بھائی چارہ سنگھٹن کے ذریعہ مسلمانوں کو پارٹی سے جوڑنے مایاوتی کی مہم کا آغاز
لکھنؤ، 29 اکتوبر (یو این آئی) اترپردیش میں سال 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے سلسلے میں مسلم سماج میں اپنی رسائی بڑھانے کے ارادے سے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے ڈویژنل سطح پر ’مسلم سماج بھائی چارہ سنگٹھن‘ کی میٹنگوں کے ذریعے مسلمانوں کو پارٹی سے جوڑنے کی مہم شروع کر دی ہے ۔ اس سلسلے میں محترمہ مایاوتی نے مسلمانوں کو بہوجن سماج پارٹی سے جوڑنے کیلئے ضروری ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش کے سبھی 18 ڈیویژن یعنی ہر ڈیویژن میں ’مسلم سماج بھائی چارہ سنگھٹن ‘ کے تحت ایک دلت اور ایک مسلمان کو کنوینر بنایا گیا ہے ۔ یہ دونوں افراد مل کر اپنے ڈویژن میں ہر اسمبلی وار مسلم سماج کے درمیان جا کر، چھوٹی چھوٹی میٹنگیں کے ذریعہ انہیں بہوجن سماج پارٹی سے جوڑنے کا کام کریں گے ۔ بی ایس پی صدر نے کہا کہ ماضی میں مسلمانوں کی یکطرفہ حمایت اور ووٹ کے باوجود سماجوادی پارٹی بی جے پی کو ہرانے میں ناکام رہی ہے ، اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنی طاقت درست سمت استعمال کرے ۔ کیڈر پر مبنی ان بھائی چارہ میٹنگوں میں یہ دونوں ڈیویژن سطحی کنوینر مسلم سماج کے لوگوں کو بہوجن سماج پارٹی کے مشن کے بارے میں آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں پارٹی کی رکنیت بھی دیں گے اور اس مشنری کام کی پیش رفت رپورٹ سیدھے پارٹی کے ریاستی دفتر کے ذریعے مایاوتی کے علم میں لائیں گے ۔ مایاوتی نے کہا کہ بہوجن سماج پارٹی ذات پات اور مذہبی نفرت کے سبب محروم، مظلوم اور پسماندہ طبقات کو آپسی بھائی چارے اور یکجہتی کی بنیاد پر جوڑنے کیلئے پُرعزم ہے ۔ پارٹی کا مقصد یہ ہے کہ بغیر کسی امتیاز کے ہر شہری کے جان و مال، مذہب، روزگار اور عزتِ نفس کی مکمل حفاظت ہو اور انہیں باوقار زندگی گزارنے کا آئینی حق حاصل ہو۔ اسی مقصد کے حصول کیلئے بہوجن سماج پارٹی مسلسل جدوجہد کر رہی ہے ۔ محترمہ مایاوتی نے کہا کہ پارٹی ملک کے کروڑوں محروم، مظلوم، پسماندہ اور غریب طبقات کو ’’اقتدار اور عہدے ‘‘ کے ذریعہ سماجی تبدیلی اور معاشی ترقی دلانا چاہتی ہے ، جبکہ مخالف پارٹیاں ان طبقات میں سے چند خودغرض لوگوں کو کبھی کبھار مجبوری میں کوئی عہدہ تو دے دیتی ہیں لیکن انہیں ’’اقتدار یعنی طاقت‘‘ دینے کیلئے بالکل تیار نہیں ہوتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم سماج کو اپنی یکجہتی کے ساتھ سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے بجائے براہِ راست بہوجن سماج پارٹی کا ساتھ دینا چاہیے ، تاکہ بی جے پی کی نقصان دہ اور خطرناک سیاست کو انتخابی میدان میں شکست دی جا سکے ۔ مایاوتی کا یہ بھی کہنا ہے کہ آج جس طرح مسلمانوں کو بی جے پی نے حاشیہ پر رکھ دیا ہے اس سے ملک کے سیکولر انفراسٹرکچر کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ آنجہانی کانشی رام کے زمانے سے ہی مسلمان بی ایس پی سے جڑے رہے اور اب انہیں یہی کرنا چاہئے۔