حیدرآباد: خلیجی ممالک نے اتوار کے روز ہندوستانی حکومت سے پیغمبر اسلام کے بارے میں اب نکالے گئے اور معطل بی جے پی رہنماؤں کے تبصروں پر عوامی معافی کا مطالبہ کیا۔سفارتی بیانات کے بعد ٹی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی۔ راما راؤ نے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا، ‘بطور ایک ملک ہندوستان بی جے پی کے متعصبوں کی نفرت انگیز تقاریر کے لیے عالمی برادری سے معافی کیوں مانگے؟ یہ بی جے پی کو معافی مانگنی چاہیے۔ ہندوستان بحیثیت قوم نہیں۔
بی جے پی تلنگانہ کے سربراہ کو معطل کریں: کے ٹی آر
کل، بی جے پی نے اپنے ترجمان نوپور شرما اور لیڈر نوین کمار جندال کو ان کے توہین آمیز مذہبی تبصروں پر معطل کرنے کے بعد، کے ٹی آر نے بی جے پی تلنگانہ کے سربراہ بندی سنجے کمار کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔’’اگر بی جے پی واقعی تمام مذاہب کا یکساں احترام کرتی ہے تو کیا آپ کو تلنگانہ بی جے پی کے سربراہ کو بھی معطل نہیں کرنا چاہئے جس نے کھلے عام بیان دیا تھا کہ تمام مساجد کو کھودنا اور اردو پر پابندی عائد کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ ٹی آر ایس لیڈر نے ٹویٹ کیا۔
“یہ سلیکٹیو ٹریٹمنٹ کیوں ؟ کوئی وضاحت؟‘‘ کے ٹی آر نے بی جے پی صدر جے پی نڈا سے پوچھا۔
بندی سنجے جو کہ رکن پارلیمنٹ بھی ہیں، نے حالیہ دنوں میں متنازعہ بیانات دیے ہیں۔ یہ الزام لگاتے ہوئے کہ تلنگانہ میں مسلم حکمرانوں نے کئی مندروں کو منہدم کیا اور ان پر مسجدیں تعمیر کیں، انہوں نے تمام مساجد کی کھدائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نیچے شیو لنگام ملنے کا امکان ہے۔
بی جے پی ایم پی نے یہ بھی کہا کہ اگر بی جے پی تلنگانہ میں برسراقتدار آتی ہے تو وہ تمام مدارس کو ختم کردے گی، مسلمانوں کے لیے ریزرویشن ختم کردے گی اور اردو کو دوسری سرکاری زبان کے طور پر ہٹا دے گی۔