کے سی آر کا دور حکومت سنہرا، فلاحی اسکیمات ثمر آور، حضورآباد میں آٹو نگر کی بھومی پوجا کے موقع پرہریش راؤ کا خطاب
حضورآباد۔ حضور آباد میں ریاستی وزیر مال ٹی ہریش راؤ نے آٹو نگر بھومی پوجا کے موقع پر جو کے سی آر کے نام سے منسوب کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم نے آٹو نگر میں 347 خاندانوں کو پلاٹ الاٹ کئے ہیں اور ان کے لئے مستقل ورک شیڈ تعمیر کررہے ہیں۔ کرایہ ادا کئے بغیر یہ آپ کے لئے ایک مستقل اثاثہ ہوگا۔ TSIIC کی جانب سے آٹو نگر کے لئے 3 کروڑ منظور کئے گئے ہیں۔ یہاں سڑکیں، میٹھا پانی، بیت الخلاء جیسی تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی اگر حضور آباد کے تمام مکین یہاں رہنے کو یقینی بنائیں۔ یہ ہر ایک کے لئے مفید ہوگا۔ آپ کے برسوں پرانے خواب کو ٹی آر ایس حکومت نے پٹہ جات تقسیم کرتے ہوئے آج خواب کو شرمندہ تعبیر کیا اور کہا کہ اگر آپ اپنی زمین ہے تو حکومت ڈبل بیڈ روم بناکر دے گی۔چیف منسٹر کے سی آر کا سنہرا دور اقتدار چل رہا ہے جو ترقی کی طرف گامزن ہے۔ ہم نے ایک لاکھ تیس ہزار ملازمتیں فراہم کی اور کئی فلاحی اسکیمات کو متعارف کیا جس سے عوام فائدہ حاصل کررہی ہے۔ سابقہ حکومتیں غریب لڑکیوں کی شادیوں میں ایک رویپہ کی بھی مدد نہیں کی۔ کے سی آر ملک کے پہلے چیف منسٹر ہیں جنہوں نے خواتین، بچوں کو مدد فراہم کی ۔ سابق وزیر ایٹالہ راجندر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنے مسائل لے کر ان کے پاس جانے پر آج اور کل کا بہانہ بناکر ٹال مٹول کیا کرتے تھے۔ مگر ہمارے پاس فوری طور پر عمل کیا جاتا ہے جس کی مثال آپ کے سامنے موجود ہے۔ موٹر میکانک یونین کے لیڈر نے کہا کہ ٹی آر ایس امیدوار گلوسرینواس کے پرچہ نامزکدگی کی فیس ہم یونین کی طرف سے ادا کریں گے اور کامیاب بنانے کا عہد کیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ 347 افراد فی فرد 20 ووٹ اپنی طرف سے ڈالوائیں گے۔ بی جے پی کے دور حکومت میں پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ گیس سبسیڈی میں کمی آئی ۔ تاہم اگر آپ پھول کے نشان کو ووٹ دیتے ہیں تو پکوان گیس کے ایک سلینڈر کی قیمت 1500 روپئے تک ہوجائے گی۔ بی جے پی حکومت ریلوے ، ایل آئی سی، ہوائی اڈے، بندرگاہیں فروخت کررہی ہے۔ اگر پبلک سیکٹر کی کمپنیاں کارپوریٹس کے ہاتھ میں آئیں تو تحفظات ختم ہوجائیں گے اور بچوں کیلئے روزگار کے مواقع ختم ہوجائیں گے۔ بی جے پی سے وابستہ ٹریڈ یونین بی ایم ایس بھی پبلک سیکٹر کمپنیوں کی فروخت کی مخالف ہے۔ بی جے پی کسان مورچہ بھی کالے زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہا ہے اور مرکزی حکومت نے کہا کہ کسانوں سے موٹے دھان کی خریدی نہیں کی جائے گی جبکہ کسان موٹے چاول کی پیداوار زیادہ کررہے ہیں اسے کون خریدیں گے۔ بی جے پی کو اس کے اپنے لوگوں کی طرف سے الزام لگایا جارہاہے ہم اس پارٹی کو ووٹ کیوں دیں؟ جو آٹو نگر کے قیام میں رکاوٹ ڈال رہی تھی۔
