بی جے پی کی زہر افشانی کے ذریعہ قدم جمانے کی کوشش

   

تروپتی ضمنی پارلیمانی انتخابات میں نئی حکمت عملی ، عیسائیوں اور ہندوؤں کے درمیان منافرت
حیدرآباد۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے شہر حیدرآباد میں جس طرح زہر افشانی کے ذریعہ اپنے قدم جمانیکی کوشش کی گئی ہے اسی طرح سے آندھرا پردیش میں بھی زہر افشانی کرتے ہوئے فرقہ وارانہ منافرت پھیلائی جا رہی ہے۔ ریاستی صدر تلنگانہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے شہر حیدرآباد میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات کے دوران رائے دہندوں کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کے لئے مجلس کو مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ریکارڈ کامیابی حاصل کی اور اب وہی حکمت عملی ریاست آندھرا پردیش میں اختیار کی جانے لگی ہے اورکہا جا رہاہے کہ تروپتی انتخابات میں کامیابی کے حصول کے لئے ریاستی صدر تلنگانہ کی خدمات کے حصول کا فیصلہ کیاگیا ہے اور انہوں نے گذشتہ یوم اپنے دورہ آندھرا پردیش کے دوران انتہائی متنازعہ ریمارکس کے ذریعہ عیسائیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ بنڈی سنجے نے آندھرا پردیش میں عوام سے استفسار کیا کہ وہ بائبل پارٹی کے ساتھ ہیں یا بھگوت گیتا پارٹی کے ساتھ ہیں۔ انہو ںنے عوام سے کہا کہ وہ فیصلہ کریں کہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں! بنڈی سنجے نے ریاست تلنگانہ میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات کے دوران بھی اسی طرح کی زہر افشانی کرتے ہوئے مجلس اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا تھا اور اکثریتی طبقہ کے رائے دہندوں کو متحد کرنے میں ان کے ایسے متنازعہ ریمارکس نے اہم کردار ادار کیا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد کے بلدی انتخابات میں جو حکمت عملی اختیار کی گئی تھی وہی حکمت عملی تروپتی میں ہونے جا رہے پارلیمنٹ کے ضمنی انتخابات میں اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور تروپتی میں عیسائیوں اور ہندوؤں کے درمیان منافرت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دیتے ہوئے عوام کو گمراہ کرتی ہے اور حقیقت میں بی جے پی کی جانب سے ملک میں موجود تمام اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے اور انہیں یکا و تنہاء کیا جا رہاہے۔تروپتی ضمنی انتخابات میں بنڈی سنجے کی حکمت عملی کس حد تک کامیاب ہوگی اس کا اندازہ کیا جانا مشکل ہے لیکن کہا یہ جا رہاہے کہ ریاست آندھراپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے نہ صرف بنڈی سنجے بلکہ دیگر ذرائع کی مددحاصل کرتے ہوئے بھی وائی ایس جگن موہن ریڈی حکومت سے اکثریتی طبقہ کو نالاں کرنے کی پالیسی اختیار کرنے کامنصوبہ تیار کیا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آندھراپردیش میں منادر میں مورتیو ںکو توڑے جانے کی شکایات پر ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری ہے۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات کے دوران بی جے پی صدر تلنگانہ بنڈی سنجے نے بھاگیہ لکشمی مندر ‘ بھاگیہ نگر اور ایسے ہی مسائل کو موضوع بحث بناتے ہوئے بی جے پی کی 48 نشستوں پر کامیابی کو یقینی بنایا اور اسی منصوبہ کو اب وہ تروپتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔