بی جے پی کی مخالفت پر اعظم خاں نشانہ دیگر مخالفین پر مہربانی کیوں؟

   

Ferty9 Clinic

مسلم کاز کے دیگر دعویدار محض دکھاوا، اعظم خاں کے خلاف انتقامی کارروائی: مجید اللہ خاں فرحت

حیدرآباد۔/16 اگسٹ، ( سیاست نیوز)اُتر پردیش میں بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی مخالفت کیلئے مشہور سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اعظم خاں کو یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی جانب سے مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یوں تو ملک میں مودی اور بی جے پی کی مخالفت کرنے والے قائدین کی کمی نہیں لیکن صرف اعظم خاں کو نشانہ بنانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ملک کی دیگر ریاستوں میں مودی کے ناقدین میں شامل دیگر مسلم قائدین کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی برخلاف اس کے قومی سطح پر شہرت رکھنے والے اعظم خاں کو متواتر کسی نہ کسی انداز میں نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے ان کی قائم کردہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ یونیورسٹی کی خیرمقدمی کمان کو نہ صرف منہدم کیا گیا بلکہ اعظم خاں کے خلاف کئی ایف آئی آر درج کئے گئے۔ رامپور کے ضلع انتظامیہ نے جمعہ کے دن اعظم خاں کے ریسارٹ ’’ ہمسفر ‘‘ کی باؤنڈری وال کو منہدم کردیا۔ انہیں اراضی پر قبضہ کے سلسلہ میں نوٹس دی گئی تھی۔اریگیشن ڈپارٹمنٹ کی اراضی پر تعمیر کا الزام عائد کرتے ہوئے دو جے سی بی مشینوں کے ذریعہ انہدامی کارروائی انجام دی گئی۔ 1000 مربع میٹر کے حصہ کو منہدم کردیا گیا۔ اس موقع پر کسی گڑبڑ کے اندیشے کے تحت پولیس کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی ۔ یہ ریسارٹ محمد علی جوہر یونیورسٹی سے 3 کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ واضح رہے کہ 29 جولائی کو حکومت نے اعظم خاں کے خلاف اراضیات پر قبضے کے مختلف مقدمات دائر کرتے ہوئے لینڈ مافیا قرار دیا تھا۔ انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے یونیورسٹی کو بیرون ملک سے حاصل ہونے والے عطیات کے سلسلہ میں منی لانڈرنگ کی جانچ کی جارہی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے رامپور پولیس سے اعظم خاں کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ الغرض بی جے پی اعظم خاں کو گھیرنے اور انہیں ہراساں کرنے کا کوئی موقع گنوانا نہیں چاہتی جبکہ ملک میں اور بھی قائدین ٹی وی چینلس اور پارلیمنٹ میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں لیکن پھر بھی بی جے پی اور مرکزی حکومت کا رویہ ان کے ساتھ مہربانی کا ہے۔ یو پی اے دور حکومت میں سونیا گاندھی کی چھترچھایہ اور مہربانی کے تحت مختلف فوائد حاصل کرنے والے قائدین آج بی جے پی اقتدار میں بھی حکومت کے منظور نظر بنے ہوئے ہیں۔ اسی دوران مجلس بچاؤ تحریک کے صدر مجید اللہ خاں فرحت نے یو پی حکومت کی اعظم خاں کے خلاف کارروائیوں کو خالص انتقامی جذبہ کے تحت کی گئی سازش قرار دیا تاکہ مسلمانوں کے حق میں اُٹھنے والی آوازوں کو دبایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے حقوق کیلئے اعظم خاں نے ہمیشہ نتائج کی پرواہ کئے بغیر آواز اٹھائی لیکن انہیں بی جے پی برسراقتدار آنے کے بعد سے انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صدر ایم بی ٹی نے کہا کہ ملک میں اگرچہ بعض دیگر مسلم قائدین بھی خود کو مسلمانوں کے کاز کا چمپین قرار دیتے ہیں اور مودی اور بی جے پی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اپنے ووٹ بینک کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان قائدین کی تنقیدوں پر بی جے پی شاید اس لئے توجہ نہیں دیتی کیونکہ یہ میچ فکسنگ کا معاملہ ہے۔ بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے ملک میں بی جے پی کو درپردہ مستحکم کرنے کی کوشش میں شامل قائدین ہمیشہ بی جے پی کے نور نظر بنے رہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مرکزی حکومت نے ایسے قائدین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ صرف اعظم خاں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں مسلمانوں کیلئے آواز اٹھاتے ہیں جبکہ دیگر بناوٹی آوازیں مسلمانوں کو دھوکہ دے رہی ہیں اور وہ قائدین مسلمانوں کی ترقی کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ ان کے انتخابی حلقوں میں مسلمانوں کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اس کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔