بی جے پی کی نفرتوں کا بلڈوزر پر سفر جاری !

,

   

اترپردیش میں یوگی حکومت نے خانگی املاک گرائے ، مدھیہ پردیش اور گجرات میں نقل

آگرہ ؍ گاندھی نگر : اترپردیش میں چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کی گذشتہ میعاد کے دوران حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے حوصلے پست کرنے کیلئے ان کی املاک پر بلڈوزر چلانے کا ظالمانہ طریقہ شروع کیا تھا جو بی جے پی کے نفرتوں کے سفر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ بی جے پی زیرقیادت مزید دو ریاستوں مدھیہ پردیش اور گجرات میں بھی حکام نے یہی روش اختیار کرلی ہے۔ آج جمعہ کا تازہ واقعہ ہے جس میں دائیں بازو کے شرپسندوں نے آگرہ میں ایک مسلم شخص کی فیملی کے دو مکانات کو آگ لگادی۔ شرپسندوں کا دعویٰ ہیکہ مسلم شخص نے ایک ہندو لڑکی کا اغواء کیا۔ دلچسپ بات ہیکہ خود ہندو لڑکی نے ایک ویڈیو کلپ میں واضح کردیا کہ وہ بالغ ہے اور اپنی مرضی کے مطابق اقدام کررہی ہے۔ مقامی پولیس اسٹیشن کے انچارج کو غفلت برتنے کی پاداش میں معطل کیا گیا ہے۔ گیارہویں کی طالبہ پیر کو لاپتہ ہوئی تھی۔ اسے دو روز بعد پولیس نے ڈھونڈ لیا لیکن مبینہ ملزم ساجد کا اتہ پتہ معلوم نہیں ہوا۔ اس پر مشتعل عناصر نے قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔ مدھیہ پردیش کے کھرگون ٹاؤن سے 8 کیلو میٹر دور گاؤں میں 60 سے زیادہ ہندوتوا غنڈوں نے ایک مسلم فیملی کے مکان میں گھس کر مارپیٹ کی۔ ان پر پتھر پھینکے جبکہ فیملی افطار کیلئے بیٹھی تھی۔ شرپسندوں کو 22 سالہ عبدالملک سے شکایت تھی جس کے تعلق سے وہ کئی غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں۔ خود ہندوتوا عناصر نے اشتعال انگیزی کی حد پار کرتے ہوئے مسلم فیملی کو جئے شری رام بولنے پر مجبور کیا۔ گجرات کے کھنبھات میں رام نومی کے جلوس پر پتھراؤ کا الزام عائد کرتے ہوئے مبینہ ملزمین کی املاک پر ضلع انتظامیہ نے بلڈوزر چلادیا ہے۔ تشدد کے مقام پر واقع دکانوں کو تباہ کردیا گیا۔ رام نومی کے موقع پر کھنبھات میں پیش آئے تشدد میں ایک شخص کی موت ہوئی تھی۔