حیدرآباد : گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں بی جے پی کے اچھے مظاہرہ کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹی آر ایس اور کانگریس کے کئی قائدین اس زعفرانی پارٹی میں شامل ہونے کیلئے آمادہ ہیں اور وہ یہ امید کرتے ہیں کہ ریاست میں آئندہ منعقد ہونے والے انتخابات میں بھی بی جے پی اسی طرح کامیابی حاصل کرے گی۔ قائدین کا احساس ہیکہ کانگریس کا وجود نہیں کے برابر ہوگیا ہے جبکہ دوسری طرف بی جے پی نے 2016ء میں منعقدہ جی ایچ ایم سی انتخابات کے مقابلہ اس مرتبہ کارپوریشن انتخابات میں کامیاب ہونے والے اس کے زیادہ امیدواروں کے ساتھ بہتر مظاہرہ کیا ہے۔ 2016ء میں بی جے پی کے صرف چار کارپوریٹرس منتخب ہوئے تھے۔ زعفرانی پارٹی نے حلقہ جات اسمبلی مہیشورم، راجندرنگر، سیری لنگم پلی اور ایل بی نگر میں اس کے حق میں رائے دہی کے فیصد کو بڑھایا ہے اور زیادہ نشستوں (وارڈس) پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس دوران سابق ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ اور موجودہ کانگریس قائد کونڈا ویشویشور ریڈی کے ایک ٹوئیٹ کو بھی اہمیت حاصل ہوگئی کیونکہ مسٹر ریڈی نے ان کے ٹوئیٹر ہینڈل پرکہا کہ صرف بی جے پی ہی میں ٹی آر ایس کی مخالفت کرنے کی طاقت ہے۔ اس کے ساتھ یہ قیاس آرائی کی جارہی ہیکہ شاید وہ بی جے پی میں شمولیت اختیار کریں گے۔ یہ قیاس آرائی بھی کی جارہی ہیکہ کرشنا ریڈی جنہیں 2018ء کے اسمبلی انتخابات میں شکست ہوئی تھی، زعفرانی پارٹی میں شامل ہوسکتے ہیں اور بی جے پی کے ٹکٹ پر آئندہ اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کرسکتے ہیں۔ کرشناریڈی جو ٹی آر ایس سے انہیں ایم ایل سی بنائے جانے کی توقع کررہے تھے، لیکن سبیتا اندرا ریڈی کے ٹی آر ایس میں شامل ہونے اور وزیر بننے کے بعد ان کی امید ختم ہوگئی تھی چونکہ ٹی آر ایس قیادت انہیں کوئی اہم رول ادا کرنے کا موقع نہیں دے رہی ہے ایسے میں یہ سمجھا جارہا ہیکہ وہ بی جے پی میں شامل ہوں گے۔