نئی دہلی۔ 9فروری(یواین آئی)ناگر کرنول کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ملو روی نے کہا ہے کہ کانگریس پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے بشمول کئی اراکین پارلیمنٹ نے پہلے ہی اس تحریک عدم اعتماد پر دستخط کر دیئے ہیں اور کل اس سلسلہ میں باقاعدہ طور پر لوک سبھا اسپیکر کو مکتوب سونپا جائے گا۔قومی دارالحکومت نئی دہلی کے تلنگانہ بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں جمہوری اقدار کو بری طرح پامال کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف ایم ایم نروانے نے اپنی کتاب میں واضح طور پرنشاندہی کی ہے کہ چین کس طرح ہندوستانی سرزمین میں داخل ہوا لیکن جب اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے ان مسائل کو لوک سبھا میں اٹھانے کی کوشش کی تو بی جے پی ارکان نے انہیں روک دیا۔ انہوں نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا اسپیکر پارلیمنٹ میں جمہوریت کو بالائے طاق رکھ کر بی جے پی کے ایجنڈہ کو آگے بڑھا رہے ہیں اور پارلیمانی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایوان کو بار بار ملتوی کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آج ایوان میں راہول گاندھی کو بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا کیونکہ حکومت کو ڈر ہے کہ وہ چینی مداخلت کا معاملہ اٹھائیں گے ۔ ملو روی نے اسپیکر کے اس تبصرے کو بھی مضحکہ خیز قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ خاتون کانگریس ایم پیز وزیر اعظم کو روک رہی ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ خاتون ایم پیز نے کبھی ایسا کچھ نہیں سوچا۔ اس کے علاوہ انہوں نے الزام لگایا کہ راہول گاندھی کو امریکہ۔ہند تجارتی معاہدہ پراظہارخیال کرنے سے روکنے مائیک نہیں دیا گیا۔کانگریس کے 8اراکین پارلیمنٹ کی معطلی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کہنا شرمناک ہے کہ اپوزیشن ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے ۔
ملو روی نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت پارلیمنٹ چلانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور بی جے پی صرف سیاسی فائدہ کے لئے ایوان کو چلنے نہیں دے رہی۔ انہوں نے انتباہ دیاکہ ایوان کو جانبداری سے چلانا ملک کی جمہوریت کے لئے خطرناک ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی خط اعتمادکا احترام کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو بامقصد بحث کا پلیٹ فارم بنائے ۔