عوام بدامنی اورخوشحالی میں تمیز کریں، ٹی آر ایس کا استحکام ترقی کی ضمانت، رائے دہندوں کا رجحان ٹی آر ایس کے حق میں
حیدرآباد۔ ایسے وقت جبکہ گریٹر حیدرآباد بلدی چناؤ کی انتخابی مہم عروج پر ہے بی جے پی کے جارحانہ تیور سے عوام کو احساس ہونے لگا ہے کہ شہر میں امن وامان اور ترقی کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ماحول میں کشیدگی اور مذہب کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے سے نہ صرف ترقی متاثر ہوگی بلکہ عوام مزید مسائل کا شکار ہوجائیں گے۔ حیدرآباد کو ترقی اور فلاح و بہبود کے راستہ پر برقرار رکھنے کیلئے فرقہ پرست طاقتوں کی حوصلہ شکنی ضروری ہے تاکہ ترقی کی ٹرین پٹری سے اترنے نہ پائے۔ بی جے پی نے انتخابی مہم کو نہ صرف فرقہ وارانہ رنگ دیا بلکہ اشتعال انگیز نعرہ بازی اور تقاریر کے ذریعہ امن پسند شہریوں میں خوف کا ماحول پیدا کردیا ہے۔ انتخابی مہم سے ایک طرف سیاسی ماحول گرما چکا ہے ایسے میں اصل مقابلہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان دکھائی دے رہا ہے۔ شہر کے 100 سے زائد حلقے ایسے ہیں جہاں بی جے پی کے بڑھتے قدم روکنے کیلئے ٹی آر ایس نے مضبوط حکمت عملی اختیار کی ہے اور اسے ہر سطح پر عوام کی غیر معمولی تائید حاصل ہورہی ہے۔ بلدی انتخابات میں سیکولر اور فرقہ پرست طاقتوں کے درمیان راست مقابلہ کے نتیجہ میں رائے دہندوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خوشحالی، ترقی اور بدامنی اور پسماندگی کے درمیان فرق کو محسوس کرتے ہوئے باشعور انداز میں اپنا فیصلہ سنائیں۔ بی جے پی نے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دوباک کے تجربہ کو دوہرانے کیلئے فرقہ وارانہ ایجنڈہ اختیار کیا جوکہ ملک بھر میں اس کا پسندیدہ موضوع ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی نے عوام کو مذہب کی بنیاد پر تسلیم کرتے ہوئے کامیابی کی روایت کو حیدرآباد میں دوہرانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ سیکولر، امن پسند اور ترقی پسند شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹی آر ایس کو مضبوط کرتے ہوئے فرقہ پرست عزائم کو ناکام کریں۔ بی جے پی قائدین کی تقاریر اور ان کے نعروں نے عوام میں ڈر و خوف کا ماحول پیدا کردیا ہے۔ فرقہ پرستوں کا استحکام شہر میں امن و سکون کو غارت کردے گا اور حیدرآباد کا برانڈ امیج دنیا بھر میں نہ صرف متاثر ہوگا بلکہ پسماندگی علاقہ کا مقدر بن جائے گی۔ ٹی آر ایس موجودہ حالات میں واحد مضبوط پارٹی ہے جو فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے کی نہ صرف اہلیت رکھتی ہے بلکہ شہر کو امن کے ساتھ ترقی کے راستہ پر گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گذشتہ 7 برسوں میں ٹی آر ایس نے اپنی کارکردگی کے ذریعہ اس کا ثبوت دیا ہے۔ پرانے شہر اور نئے شہر میں عوام کا رجحان ٹی آر ایس کی طرف واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ عوام نہیں چاہتے کہ امن کی بربادی سے ان کا مستقبل تاریک ہوجائے۔ حقیقت یہ ہے کہ امن کا خاتمہ شہر کو پھر ایک بار پسماندگی میں جھونک دے گا۔یکم ڈسمبر کو رائے دہی کے موقع پر شہریان حیدرآباد کو سیکولر اور فرقہ پرستوں کے درمیان تمیز کرتے ہوئے سیکولرازم کے حامل اور ترقی کا منصوبہ رکھنے والی ٹی آر ایس کوکامیاب بناتے ہوئے حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب کا تحفظ کرنا ہوگا۔