بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کی مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز ریمارکس

   

صدر ٹی پی سی سی اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل نے ڈی ارویند کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا

حیدرآباد ۔ 23 اکٹوبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی ارویند کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کرنے کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا۔ حضورآباد میں آج ایک پریس کانفرنس سے سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر کانگریس ایس سی سیل کے صدر این پریتم اور او بی سی سیل کے صدر این سریکانت بھی موجود تھے۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ حضورآباد میں کانگریس کی انتخابی مہم سے بی جے پی بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ اکثریتی ووٹوں کو متحد کرنے کی خاطر نظام آباد لوک سبھا کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے انتخابات کے بعد مسلمانوں کو جوتی کے نیچے رکھنے کا توہین آمیز ریمارک کیا ہے جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں اور سنٹرل الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیںکہ وہ فوری ڈی ارویند کے خلاف کارروائی کریں۔ کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ کے صدر نے کہا کہ حضورآباد کے عوام ٹی آر ایس اور بی جے پی دونوں کو نظرانداز کررہے ہیں جس کی وجہ سے دونوں جماعتیں کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ مرکزی حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ ساتھ ہی پٹرول، ڈیزل، پکوان گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے جس سے عوام بی جے پی کے خلاف ہیں۔ مرکزی حکومت کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے ڈی ارویند نے مسلمانوں کے خلاف ریمارکس کیا ہے۔ ن