امجد خان
نریندر مودی کو 2014ء کے عام انتخابات میں بی جے پی نے عہدہ وزارت عظمیٰ کیلئے اپنا امیدوار نامزد کیا اور اس معاملہ میں بی جے پی کو اس کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کی مکمل تائید و حمایت حاصل تھی حالانکہ بی جے پی کو دو پارلیمانی نشستوں سے اقتدار تک پہنچانے والے ایل کے اڈوانی کو اُس وقت امید تھی کہ انہیں ہی عہدہ وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنایا جائے گا لیکن 2002ء گجرات مسلم فسادات کے دوران مودی جی کے کردار کو دیکھتے ہوئے اڈوانی جیسے بلند قامت لیڈر کو نظرانداز کردیا گیا جبکہ انہوں نے رام رتھ یاترا کے ذریعہ ملک میں تباہی و بربادی مچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ اس طرح کے الزام حقوق انسانی کے جہدکار، اڈوانی پر عائد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اڈوانی کی رام رتھ یاترا نے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کا ایک سلسلہ شروع کیا جس میں ہزاروں بے قصور لوگ مارے گئے جن میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ 2014ء کے عام انتخابات کی انتخابی مہم میں چیف منسٹر گجرات نریندر مودی نے ڈاکٹر منموہن سنگھ جیسی تعلیمافتہ اور سنجیدہ فکرشخصیت پر کئی ایک الزامات عائد کئے۔ انہیں اور ان کی یوپی حکومت کو مہنگائی، بیروزگاری ڈالر کے مقابلہ روپئے کی قدر میں گراوٹ، پٹرول اور ڈیزل کی زائد قیمتوں کا ذمہ دار قرار دیا اور ساتھ ہی یہ وعدہ بھی کیا کہ اقتدار پر آنے کے ساتھ ہی ملک میں پٹرول ، ڈیزل کی قیمتیں کم کردی جائیں گی۔ 2014ء میں پٹرول کی قیمتیں فی لیٹر 70 روپئے تا 73 روپئے اور ڈیزل کی قیمت 50-55 روپئے فی لیٹر ہوا کرتی تھی۔ دہلی میں تو اپریل 2014ء میں ڈیزل 55-48 روپئے فروخت کیا جارہا تھا۔ 2014 ء میں سونے کی قیمت فی تولہ 28470 روپئے فی دس گرام (24 کیرٹ سونا) جبکہ چاندی مارچ 2014ء تک 43070 روپئے فی کیلو گرام تھی۔ اس طرح سال 2014ء میں ڈالر کے مقابلہ ہندوستانی روپئے کی قدر 61-62 روپئے ہوا کرتی تھی یعنی ایک ڈالر 61 ہندوستانی روپیوں کے برابر تھا۔ تاہم اب پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں بڑھ کر 110-115 روپئے سونے کی قیمت بڑھ کر 140445 روپئے اور چاندی کی قیمت فی کیلو گرام 258000 روپئے فی کیلو گرام ہوگئی۔ ڈالر کے مقابلہ ہندوستانی روپیہ کی قدر گر کر 89.79 ہوگئی۔ اس کے علاوہ دالوں، تیل اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوا لیکن مودی جی بڑی بے فکری کے ساتھ عوام کو خاطر میں لانے سے گریز کررہے ہیں۔ گرچہ ہندوستانی عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے لیکن بی جے پی کی دولت میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے۔ مثال کے طور پر بی جے پی کو صرف سال 2024-25ء میں 6088 کروڑ روپئے کا چندہ با ڈونیشن حاصل ہوئے جو کانگریس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ راہول گاندھی نے بار بار حکومت پر الزام عائد کیا کہ چھوٹی صنعتیں کافی پریشان ہیں۔ حالیہ عرصہ میں کچھ صنعتکاروں نے راہول گاندھی سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ مودی حکومت میں چھوٹی صنعتیں پریشان ہیں جو کاپی 50 روپئے کی تھی آج وہ 62 روپئے کی خود مینوفکچر کو پڑ رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہیکہ صفر پرجو پیپر خرید رہا ہے اس کیلئے Input سرویس کا فائدہ بلاک کردیا گیا جو بڑے بلز ہیں اگر آج وہ صفر فیصد پر ویسٹ خریدتے ہیں اور زیرو فیصد پر کاپی فروخت ہیں تو انکی کاپی تو 50 روپئے کی رہ گئی۔ حکومت کے اشتہارات میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ دالوں پر کوئی جی ایس ٹی نہیں۔ چرم اور شوز کی صنعت کے ساتھ بھی ایسی طرح کا سلوک روا رکھا گیا۔ یہ سب کچھ حکومت کچھ ایسے لوگوں کے مشوروں پر عمل کررہی ہے جن پر وہ بہت زیادہ بھروسہ رکھتی ہے۔ سوشل میڈیا پر مودی حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرنے والے سجیت نائر کے مطابق بی جے پی نے 2025ء میں 6088 کروڑ روپئے حاصل کئے حالانکہ غیرمعمولی تنقیدوں کے بعد الیکٹورل بانڈس Discontinued کردیا گیا اس کے بعد بھی بی جے پی کی دولت میں 50 فیصد اضافہ ہوا جہاں تک سیاسی جماعتوں کا سوال ہے۔ ہر سیاسی جماعت کا سیکشن نمبر 29A قانون عوامی نمائندگی کے تحت رجسٹریشن کیا جاتا ہے اس میں واضح کیا گیا ہیکہ یہ کوئی منافع بخش ادارہ نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم نے آپ کو بتایا ہیکہ بی جے پی کے فنڈ میں 50 فیصد اضافہ ہوا اس کے مطابق بی جے پی کو 6088 کروڑ روپئے، کانگریس کو 522، ڈی ایم کے کو 360 کروڑ روپئے، ٹی ایم سی کو 184 کروڑ روپئے، وائی ایس آر سی پی 140 کروڑ روپئے، تلگودیشم کو 83 کروڑ روپئے، بی جے ڈی کو 60 کروڑ روپئے، عام آدمی پارٹی کو 38 کروڑ روپئے، جے ایس پی کو 35 کروڑ روپئے اور جے ڈی یو کو 18 کروڑ روپئے فنڈ حاصل ہوئے۔ اس معاملہ میں Prudent Electoral Trust سب سے ٹاپ ڈونر رہا جس نے پچھلے مالی سال میں 15 سیاسی جماعتوں میں 2668 کروڑ روپئے کا چندہ تقسیم کیا۔ الیکشن کمیشن کو جو اڈٹ رپورٹ پیش کی گئی اس میں یہ انکشاف ہو۔ 2023-24ء میں بی جے پی کو 3967 کروڑ روپئے چندہ ملا۔ 2024-25ء میں کانگریس کو 522.13 کروڑ روپئے حاصل ہوئے۔ بی جے پی کو بے شمار صنعتی گھرانوں نے کروڑہا روپئے کا چندہ دیا۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صنعتی گھرانے یوں ہی چندہ دیں گے۔ انہیں اپنے مفادات کی نگہبانی کرنی ہوتی ہے۔ ایک اور بات ان کمپنیوں سے چندہ لیکر اپنا سیاسی دھندہ چمکایا جاتا ہے اور اس کے بدلے ان کے بنک قرض معاف کردیئے جاتے ہیں جبکہ غریب کسان قرض ادا کرنے میں ناکامی پر خودکشی کرلیتے ہیں۔ آپ کو یہ بھی بتادیں کہ ملک کی کم از کم 20 ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں میں این ڈی اے کی حکومتیں ہیں اور خود بی جے پی آزادانہ طور پر 14 ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں میں برسراقتدار ہے۔ اس کے برعکس 7 تا 8 ریاستوں میں اپوزیشن کی حکومتیں ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مودی جی نے2014 ء میں عام انتخابات کی مہم کے دوران یہ اعلان بھی کیا تھا کہ وہ بیرونی ملکوں کے بینکوں میں جمع بلیک منی واپس لائیں گے اور ہر ہندوستانی کے بینک اکاؤنٹ میں 15 پندرہ لاکھ روپئے جمع کئے جائیں گے لیکن بی جے پی کے بارے میں یہ کہا جارہا ہیکہ اس کی دولت میں ہر 30 منٹ میں 15 لاکھ روپئے کا اضافہ ہورہا ہے۔ آپ کو یہ بتانا بھی ضروری ہیکہ 2024ء میں سپریم کورٹ کی جانب سے الیکٹورل بانڈ اسکیم کو ختم کیا گیا جس کے مالی سال 2024-25ء میں حکمراں بی جے پی مالی اعتبار سے مزید مستحکم ہوئی جبکہ کانگریس کے بشمول دوسری اپوزیشن جماعتیں اس معاملہ میں اس سے بہت دور رہیں۔ الیکشن کمیشن میں 2024-25ء کیلئے جمع کردہ چندہ کی تفصیلات کے مطابق بی جے پی کو جو چندہ موصول ہوا وہ کم از کم 12 اپوزیشن جماعتوں کو موصول جملہ چندہ سے 4.5 فیصد زیادہ ہے۔ یہ بھی حیرت کی بات ہیکہ 2024-25ء میں الیکٹورل ٹرسٹوں کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو دیئے گئے چندہ میں سے 50 فیصد سے بھی زیادہ چندہ سات بڑے صنعتی گھرانوں نے دیا جن میں ٹاٹا گروپ، اوپی جندل گروپ، ایل اینڈ ٹی، میگھا انجینئرنگ، اشوک لی لینڈ، ڈی ایل ایف اور مہندرا جیسے گروپ شامل ہیں۔ اگرچہ بی جے پی کے بشمول دوسری سیاسی جماعتوں کے چندہ میں اضافہ ہوا لیکن کانگریس کو ملنے والے چندوں میں کمی آئی۔
