ٹونک: راجستھان میں 25 نومبر کو ہونے والے آئندہ اسمبلی عام انتخابات میں کانگریس کے امیدوار اور سابق نائب وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر مذہب کو سیاست سے جوڑنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس الیکشن میں اس کے پاس کوئی مدعا نہیںہے اور نہ ہی کوئی متبادل اور روڈ میپ ہے ۔پائلٹ چہارشنبہ کو یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔ ریاست سے 25 ایم پی جیت کر پارلیمنٹ گئے اور مشرقی راجستھان کینال پروجیکٹ (ای آرسی پی) کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس کوئی منصوبہ نہ ہونے کہ وجہ سے وہ مذہب کو سیاست سے جوڑ رہی ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی متبادل اور روڈ میپ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو بھی اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں عوام اور ترقی کے مسائل ہونے چاہئیں لیکن بار بار مذہب کی بات کرنا جمہوریت کے لیے اچھی علامت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی تقریروں میں مذہب کا بار بار استعمال کرنا اور بات کرنا، اس سے لگتا ہے کہ بی جے پی میں گھبراہٹ ہے اور ان کے پاس ترقی کے لیے کہنے کو کچھ نہیں ہے ، اس لیے وہ مذہب کی بات کر رہے ہیں۔
