بی جے پی کے کارگزار صدر کیخلاف ٹی آر ایس مقدمہ درج کرے

   

Ferty9 Clinic

کے سی آر کو سمپت کمار کا چیلنج،دہلی میں دوستی ، تلنگانہ میں مخالفت کا الزام

حیدرآباد ۔ 19 ۔ اگست (سیاست نیوز) اے آئی سی سی کے سکریٹری اور سابق رکن اسمبلی سمپت کمار نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کے کارگزار صدر جے پی نڈا نے حیدرآباد میں ٹی آر ایس کے خلاف جو بیان بازی کی ہے ، وہ ان کی دہری سیاست کو ظاہر کرتا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سمپت کمار نے کہا کہ بی جے پی ایک طرف مرکز میں ٹی آر ایس کی تائید حاصل کر رہی ہے تو دوسری طرف تلنگانہ میں موقف مستحکم کرنے ڈرامہ بازی کرتے ہوئے الزام تراشی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اگر دہری سیاست ترک نہیں کرے گی تو عوام سبق سکھائیں گے۔ اس بات سے بھلے ہی جے پی نڈا واقف نہ ہوں ، ڈاکٹر لکشمن تو اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مفادات کے تحفظ کے سلسلہ میں ٹی آر ایس نے کبھی بھی بی جے پی سے سوال نہیں کیا ۔ اسی طرح ٹی آر ایس حکومت میں جاری بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں پر بی جے پی نے قومی سطح پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جے پی نڈا نے کے سی آر حکومت پر جو الزامات عائد کئے ہیں، کانگریس پارٹی طویل عرصہ سے یہی باتیں کہہ رہی ہیں۔ انہوں نے بی جے پی سے سوال کیا کہ کے سی آر کی بدعنوانیوں پر آج تک وہ خاموش کیوں رہی۔ بدعنوانیوں کی روک تھام سے متعلق ادارے قومی سطح پر بی جے پی کے ہاتھ میں ہیں۔ بی جے پی حکومت نے آج تک تلنگانہ حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ صرف عوام کو گمراہ کرنے کیلئے بیان بازی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کے سی آر حکومت سے سوال کیا کہ نڈا اور لکشمن کے الزامات کے خلاف آیا کوئی مقدمہ درج کیا جائے گا ؟ کے سی آر اور کے ٹی آر نے بارہا اعلان کیا تھا کہ جو کوئی حکومت پر کسی ثبوت کے بغیر الزام عائد کرے ، اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ سوشیل میڈیا پر حکومت پر تنقید کرنے کی صورت میں مقدمات درج کئے گئے۔ اسی طرح جے پی نڈا کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جائے۔ سمپت کمار نے کہا کہ سابق میں بی جے پی کے مرکزی وزراء نے تلنگانہ حکومت کی اسکیمات کی ستائش کی تھی۔ مشن بھگیرتا اسکیم کا آغاز خود وزیراعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔ کانگریس اور تلگو دیشم سے بی جے پی میں شامل ہونے والے قائدین پر تبصرہ کرتے ہوئے سمپت کمار نے کہا کہ یہ قائدین سیاسی طور پر بیروزگار ہوچکے ہیں اور وہ عوام کے اعتماد سے محروم ہیں، ایسے قائدین کو بی جے پی اپنے قومی قائدین کی موجودگی میں پارٹی میں شامل کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امیت شاہ کی سیاسی زندگی خونی کہانی سے بھرپور ہے۔ گجرات کے فسادات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی پر تنقید کرنے سے قبل ڈاکٹر لکشمن کو اپنے قائدین کی تاریخ کا جائزہ لینا چاہئے ۔ انہوں نے بی جے پی حکومت سے مانگ کی کہ کے سی آر کی بدعنوانیوں کے خلاف فوری کارروائی کریں۔ اگر بی جے پی کے الزامات میں سنجیدگی ہے تو کارروائی ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس اگر الزامات کو بے بنیاد مانتی ہے تو بی جے پی قائدین کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ۔ بصورت دیگر عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ دونوں پارٹیاں مل کر ڈرامہ کر رہی ہیں ۔ سمپت کمار نے کہا کہ کے سی آر کابینہ میں موجود تمام وزراء نااہل ہے جو اپنے طور پر عوامی مسائل کے حل کے لئے کچھ نہیں کرسکتے۔