بی جے پی کے 8 سالہ دورحکومت 8 ریاستوں سے اپوزیشن اقتدار سے محروم

   


277 ارکان اسمبلی کو خریدنے کے الزامات، ارکان اسمبلی کی سودے بازی پر جی ایس ٹی نافذ کرنے کے ٹی آر کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 27 اگست (سیاست نیوز) مرکز پر بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد 8 سال کے دوران عوام کی جانب سے منتخب کردہ 8 ریاستوں کی حکومتوں کو اقتدار سے بیدخل کرتے ہوئے بی جے پی نے ان متذکرہ ریاستوں میں اقتدار حاصل کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف ریاستوں سے 277 ارکان اسمبلی نے اپنے اپنے پارٹیوں سے انحراف کرتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ چند ماہ قبل ہی مہاراشٹرا میں کانگریس، این سی پی اور شیوسینا حکومت کو اقتدار سے بیدخل کرتے ہوئے شیوسینا کے ساتھ بغاوت کرنے والے ارکان اسمبلی کے ساتھ بی جے پی نے مشترکہ حکومت تشکیل دی ہے۔ اس کے بعد دہلی میں عام آدمی پارٹی کو اقتدار سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ناکام ہونے کے بعد جھارکھنڈ حکومت پر خطرے کے بادل منڈلارہے ہیں۔ اس کے بعد بہار کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے اور تلنگانہ میں بھی ایکناتھ شنڈے موجود ہونے کے اشارے دیئے جارہے ہیں۔ ان 8 سال کے دوران قومی تحقیقاتی ایجنسیوں سی بی آئی، ای ڈی، انکم ٹیکس وغیرہ کا بیجا استعمال کرنے کی بھی مرکزی حکومت پر الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مرکزی حکومت پر الزامات عائد کئے جارہے ہیں کہ ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کا نعرہ دینے والی بی جے پی اب کوئی نعرہ دیئے بغیر ملک سے اپوزیشن کا صفایا کرنے کی پالیسی پر عمل کررہی ہے اور 8 سال کے دوران ملک کے 8 ریاستوں میں اپوزیشن جماعتوں کے اقتدار کا تختہ الٹ دیا گیا ہے۔ ارکان اسمبلی کو تحقیقاتی ایجنسیوں سے ڈرا دھمکا کر ان پر دباؤ بڑھاتے ہوئے انہیں بغاوت کرنے اور حکومت کو گرانے کے علاوہ انہیں بی جے پی میں شامل کرلیا گیا ہے۔ کئی ارکان پارلیمنٹ، ارکان راجیہ سبھا اور سابق مرکزی وزراء کے خلاف مختلف الزامات عائد کئے گئے۔ ان کے خلاف ای ڈی، سی بی آئی اور انکم ٹیکس کے دھاوے کئے گئے۔ انہیں نوٹسیں جاری کئے گئے جس کے بعد ان قائدین نے ہتھیار ڈال کر بی جے پی میں شامل ہوگئے جس کے بعد انہیں جو بھی نوٹس دی گئی تھی اس پر مزید کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور نہ ہی انہیں دوبارہ پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا گیا ہے۔ اس کو چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ نے ’’واشنگ پاؤڈر نرما‘‘ کا نام دیتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں پہلے قائدین کو نوٹس دی گئی جس کے بعد وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ بی جے پی کو للکارنے والے شیوسینا کے سربراہ ادے ٹھاکرے کو سبق سکھانے کیلئے ان کی پارٹی میں بغاوت پیدا کردی اور ان کے رکن راجیہ سبھا سنجے راوت کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ یہی کوشش دہلی میں کرنے کی کوشش کی گئی۔ دہلی کے ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا کے خلاف سی بی آئی نے کارروائی کی گئی۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ اپوزیشن جماعتوں کو اقتدار سے بیدخل کرنے 6300 کروڑ خرچ کئے گئے ہیں جس پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے مرکزی وزیرفینانس نرملا سیتارامن سے مطالبہ کیا کہ ارکان اسمبلی کو خریدنے کیلئے بی جے پی جو سودے بازی کررہی ہے، اس پر جی ایس ٹی نافذ کیا جائے۔ن