بی جے پی ۔ بی آر ایس دوستی پر اسد اویسی اپنا موقف واضح کریں : ریونت ریڈی

   

بی آر ایس کی تائید آخر کونسی مجبوری ہے؟ سیکولر طاقتوں کے بجائے فرقہ پرستوں سے ہمدردی افسوسناک
حیدرآباد۔/4 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے صدر مجلس اسد اویسی سے مطالبہ کیا کہ وہ نریندر مودی کے بیان کے بعد اپنے موقف کی وضاحت کریں کہ آیا وہ ابھی بھی کے سی آر کے ساتھ ہیں یا پھر سیکولر طاقتوں کی تائید کریں گے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ وزیر اعظم کی نظام آباد میں تقریر سے بی آر ایس اور بی جے پی کا فیوی کول بندھن واضح ہوچکا ہے۔ کانگریس پارٹی کل تک جو اندیشہ ظاہر کررہی تھی وہ حقیقت میں تبدیل ہوگیا۔ اس مرحلہ پر مجلس کو اپنے موقف کا اظہار کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی تائید کرنے والی بی آر ایس کو کیا مجلس کی تائید جاری رہے گی؟۔ انہوں نے مجلسی قیادت سے سوال کیا کہ بی آر ایس سے مفاہمت ختم کریں گے یا پھر فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ دوستی برقرار ہے گی۔ انہوں نے اسد اویسی سے مطالبہ کیا کہ وہ حقائق منظر عام پر آنے کے بعد بی آر ایس کی تائید ترک کردیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ مسلمانوں اور سیکولر طاقتوں کو بھی سوچنا چاہیئے کہ بی جے پی اور بی آر ایس ریاست کیلئے کس قدر نقصاندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پارٹیاں دلی میں دوستی اور گلی میں کُشتی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور تلنگانہ میں مخالف حکومت ووٹ تقسیم کرتے ہوئے کانگریس کو اقتدار سے روکنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی تمام سیکولر طاقتوں کو ساتھ لے کر بی جے پی۔ بی آر ایس اتحاد کو شکست دینا چاہتی ہے۔ اس مرحلہ پر مجلس اپنے موقف کی وضاحت کرے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہمیشہ عوام کے ساتھ ہے جبکہ مجلس کو واضح کرنا چاہیئے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ہے یا پھر بی آر ایس کے ساتھ ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور بی جے پی قومی صدر نڈا نے کے سی آر پر ہزاروں کروڑ کی بدعنوانیوں کا الزام عائد کیا لیکن مرکزی اداروں کے ذریعہ تحقیقات سے گریز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام خود بھی محسوس کررہے ہیں کہ بی آر ایس اور بی جے پی اتحاد کا مقصد کانگریس کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کا ہائی کمان نریندر مودی ہیں لہذا عوام کو چوکس رہنا ہوگا۔ انہوں نے چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم کے بیان پر اپنا موقف واضح کریں کہ آیا انہوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی یا نہیں۔ کے سی آر نے پارلیمنٹ میں ہر مرحلہ پر نریندر مودی حکومت کی تائید کی۔ اب جبکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوچکا ہے اقلیتوں کیلئے نقصاندہ نریندر مودی حکومت سے بچاؤ کیلئے سیکولر طاقتوں کو متحد ہونا چاہیئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اسد اویسی کی آخر کیا مجبوری ہے جو بی آر ایس کی تائید جاری رکھے ہوئے ہیں۔