بی جے پی 14 مئی کو کریم نگر میں ’ ہندو ایکتا یاترا ‘ کا اہتمام کریگی

   

چیف منسٹر آسام مہمان خصوصی ہوں گے ، ایک لاکھ ہندو شرکت کریں گے ، بنڈی سنجے کا اعلان
حیدرآباد ۔ 6 ۔ مئی ( سیاست نیوز ) تلنگانہ بی جے پی صدر بنڈی سنجے نے بتایا کہ 14 مئی کو کریم نگر میں ایک لاکھ لوگوں کے ساتھ ’ ہندو ایکتا یاترا ‘ کا اہتمام کیا جائے گا جس میں چیف منسٹر آسام ہیمنت بسوا شرما کے علاوہ بی جے پی کے دیگر قائدین مہمان خصوصی حیثیت ہونگے ۔ مرکزی وزیر سمرتی ایرانی کی بھی شرکت کے امکانات ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہندو دھرم کے تحفظ کے لیے اس یاترا کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔ ریاست کے تمام اضلاع سے ہندو ذات پات ، علاقہ اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر شرکت کریں گے ۔ بی جے پی کے آفس میں ہندو ’ ایکتا یاترا ‘ پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے منعقد کیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بنڈی سنجے نے کہا کہ تلنگانہ میں ہندوؤں کے ساتھ قدم قدم پر نا انصافی ہورہی ہے اور اقلیت نواز پالیسیوں پر عمل کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سکریٹریٹ کے احاطہ میں 80 فیصد ہندو آبادی کی مندر کے لیے ڈھائی گنٹے اراضی مختص کی گئی ہے جب کہ 10 فیصد آبادی رکھنے والے مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کے لیے 5 گنٹے اراضی مختص کی گئی ہے ۔ ہندوؤں سے کے سی آر حکومت کا امتیازی سلوک کا یہ ثبوت ہے ۔ اس لیے سارے تلنگانہ کے ہندوؤں کو متحد کرنے کے لیے ہندو ایکتا یاترا کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔ ملک میں چند سیاسی جماعتیں سیکولرازم کے نام پر مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے ہندوؤں کے مفادات کے خلاف کام کررہی ہیں ۔ کرناٹک میں کانگریس پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں بجرنگ دل کے خلاف پابندی عائد کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ بی جے پی مذہب کی بنیاد پر دئیے گئے تحفظات کو ختم کردے گی ۔ مہاراشٹرا اور کرناٹک میں اس طرح تحفظات کو ختم کردیا ہے ۔ اب اگلی باری تلنگانہ میں مذہب کے نام پر دئیے گئے 4 فیصد مسلم تحفظات کی ہے ۔۔ ن