lتلنگانہ میں بھی ایسا ہی تھا لیکن کانگریس نے انہیں شکست دی
lآخری مرحلہ کی انتخابی مہم ‘ بالاسور میں ریالی سے راہول کا خطاب
بھوبنیشور : لوک سبھا الیکشن کے ساتویں اور آخری مرحلہ کی مہم کے دوران آج راہول گاندھی نے اوڈیشہ کے بالاسور میں مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ اوڈیشہ حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے ایک انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوڈیشہ میں حکمراں بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) اور بی جے پی کے درمیان گٹھ جوڑ ہے اور وہ دونوں مل کر ریاست کو لوٹ رہے ہیں، ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہاں کے وزیر اعلیٰ اگر واقعی میں بی جے پی کے خلاف لڑتے ہیں تو آج تک ان پر کیس کیوں نہیں ہوا؟ کیونکہ بی جے ڈی کے نوین پٹنایک بی جے پی کیلئے کام کرتے ہیں۔ یہ دونوں ایک ہیں۔ ان کا ہدف اوڈیشہ کے لوگوں کی دولت چوری کرنا ہے۔لوگوں کی زبردست بھیڑ کے سامنے اپنی مثال پیش کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ میں بی جے پی کے خلاف لڑتا ہوں۔ میرے اوپر بی جے پی نے 24 کیس درج کروا دیے ہیں۔ ای ڈی نے 50 گھنٹے تک مجھ سے پوچھ تاچھ کی اور مجھے 2 سال کی جیل کروا دی، میری پارلیمانی رکنیت چھین لی، میرا گھر لے گئے۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے تمھارا گھر نہیں چاہیے، میں ہندوستان کے کروڑوں لوگوں کے دلوں میں رہتا ہوں۔عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کانگریس کے سابق صدر نے کہا کہ تلنگانہ میں بھی بی آر ایس (بھارتیہ راشٹر سمیتی) اور بی جے پی کے درمیان اسی طرح کی مفاہمت تھی اور کانگریس نے وہاں گزشتہ اسمبلی انتخاب میں دونوں جماعتوں کو شکست دے کر عوام کی حکومت تشکیل دی۔ اب وہاں کانگریس کی حکومت میں عوام کو فرق صاف دکھائی دے رہا ہے۔اپنے خطاب میں راہول گاندھی نے بی جے پی پر اوڈیشہ کے لوگوں کی توہین کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایک بی جے پی لیڈر نے کہا کہ بھگوان شری جگن ناتھ‘ نریندر مودی کے بھکت ہیں۔ یہ بی جے پی کے تکبر کا ثبوت ہے۔ انھوں نے اوڈیشہ کے لوگوں کی توہین کی ہے، ان کے عقیدہ کو ٹھیس پہنچائی ہے۔اپنی تقریر میں راہول گاندھی نے مودی حکومت پر ایک بار پھر صرف چند ارب پتیوں کو مدد پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ مودی حکومت نے ارب پتیوں کو پیسہ دیا، ہم غریبوں کو پیسہ دیں گے۔راہول نے مزید کہا کہ جیسے ہی ہم غریبوں کو پیسہ دینا شروع کریں گے، یہ میڈیا والے کہیں گے انڈیا بلاک کی حکومت غریبوں کی عادت بگاڑ رہی ہے لیکن ہم میڈیا کی بات نہیں سنیں گے کیونکہ آپ اڈانی۔امبانی کے لوگ ہیں۔ ہم صرف ملک کے غریبوں، کسانوں، مزدوروں کی بات سنیں گے۔