بی سی تحفظات پر قانونی پہلوؤں کا جائزہ، چیف منسٹر ریونت ریڈی سے کمیٹی کی ملاقات

   

رپورٹ میں تین امکانات کی نشاندہی، قانونی تنازعہ سے بچنے کیلئے پارٹی سطح پر 42 فیصد ٹکٹ الاٹ کرنے کا امکان
حیدرآباد ۔ 28 ۔ اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ میں 42 فیصد بی سی تحفظات پر عمل آوری کیلئے قانونی ماہرین سے مشاورت کے لئے تشکیل دی گئی کمیٹی نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو قانونی پہلوؤں سے واقف کرایا جس کے ذریعہ بی سی تحفظات پر عمل آوری کی گنجائش رہے گی۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ ، تلنگانہ انچارج میناکشی نٹراجن ، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا ، ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی ، پونم پربھاکر ، سریدھر بابو اور سیتکا نے چیف منسٹر کو گزشتہ چند دنوں کے دوران ماہرین قانون سے مشاورت کی تفصیلات سے واقف کرایا ۔ کمیٹی کو اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرنی ہے جس کا کابینہ کے اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی نے حکومت کو تین امکانات کے بارے میں واقف کرایا ہے۔ مرکز کی جانب سے تحفظات بلز کی عدم منظوری کی صورت میں پارٹی کی سطح پر پسماندہ طبقات کو 42 فیصد ٹکٹ فراہم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق حکومت کو 3 ستمبر تک پنچایت راج اداروں کے انتخابات کا مرحلہ مکمل کرنا ہے ۔ سماجی انصاف کے وعدہ کی تکمیل کیلئے کانگریس پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں 42 فیصد بی سی طبقات کو نمائندگی دے سکتی ہے۔ کمیٹی کی دوسری تجویز جی او کی اجرائی ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت جی او جاری کرتے ہوئے مجالس مقامی میں پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات فراہم کرسکتی ہے۔ دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ اگر تحفظات بلز کے صدر جمہوریہ کے پاس زیر التواء ہونے کے دوران حکومت اسی مسئلہ پر علحدہ احکامات جاری نہیں کرسکتی۔ جی او کی اجرائی کی صورت میں یہ معاملہ دوبارہ ہائی کورٹ پہنچ سکتا ہے۔ کمیٹی کی تیسری تجویز یہ تھی کہ مرکزی حکومت کی جانب سے بلز کی منظوری تک انتظار کیا جائے اور حکومت پر دباؤ کا سلسلہ جاری رکھے۔ تینوں امکانات پر مشتمل رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد کابینہ کوئی ایک فیصلہ کرے گی۔ 30 اگست کو منعقد ہونے والے کابینی اجلاس میں تحفظات کے علاوہ مجالس مقامی کے انتخابات کے انعقاد کے لئے اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو کلیئرنس دیا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایڈوکیٹ جنرل اور سپریم کورٹ کے وکلاء نے علحدہ قانونی رائے پیش کی ہے۔ امکان اس بات کا ہے کہ مرکز کی جانب سے بلز کی عدم منظوری کو بنیاد بناکر حکومت مزید کسی قانونی کشاکش سے بچنے کیلئے پارٹی کی سطح پر 42 فیصد ٹکٹ پسماندہ طبقات کو الاٹ کئے جائیں گے۔ کانگریس ہائی کمان تحفظات کی فراہمی کے بارے میں اس لئے بھی سنجیدہ ہے کیونکہ راہول گاندھی نے یہ نظریہ پیش کیا تھا۔ طبقاتی سروے میں تمام طبقات کی آبادی کا تعین کرتے ہوئے 42 فیصد بی سی تحفظات کا فیصلہ کیا گیا۔پارٹی کے بی سی قائدین نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ اسمبلی کے مانسون سیشن میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے تحفظات بلز کی منظوری کا مطالبہ کیا جائے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحفظات بل کی پیشکشی کے وقت اسمبلی میں بی آر ایس اور بی جے پی نے تائید کی تھی لیکن حکومت اگر قرارداد پیش کرتی ہے تو بی آر ایس اور بی جے پی کی جانب سے تائید کا حصول اس لئے بھی ممکن نہیں کہ دونوں پارٹیاں حکومت پر غیر سنجیدہ ہونے کا الزام عائد کر رہی ہیں ۔ گزشتہ پانچ ماہ سے صدر جمہوریہ کے پاس زیر التواء بلز کی منظوری کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا کیونکہ بی جے پی نے مسلم تحفظات کی مخالفت کرتے ہوئے شرط رکھی ہے کہ اگر 42 فیصد مکمل تحفظات صرف پسماندہ طبقات کو دیئے جاتے ہیں تو وہ تائید کرے گی۔1