بی سی تحفظات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے تلنگانہ حکومت کی تیاری

   

زیر دوران مقدمہ میں فریق بننے کا فیصلہ، سپریم کورٹ کے وکلاء کی خدمات، پارٹی ٹکٹ میں 42 فیصد حصہ داری کی حکمت عملی برقرار
حیدرآباد۔ 24 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے 42 فیصد بی سی تحفظات کے مسئلہ پر سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی تیاری کرلی ہے۔ گزشتہ 5 ماہ سے تحفظات سے متعلق اسمبلی میں منظورہ دو علیحدہ بلز صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے پاس زیر التواء ہیں۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں رولنگ دی کہ اسمبلی سے منظورہ بلز کے بارے میں اندرون 90 دن صدر جمہوریہ کو فیصلہ کرنا چاہئے۔ سپریم کورٹ کی اس رولنگ پر زیر دوران مقدمہ میں تلنگانہ حکومت نے فریق بنتے ہوئے اندرون 90 دن بلز کی منظوری کے حق میں دلائل پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ماہرین سے مشاورت کے بعد سپریم کورٹ وکلاء کی خدمات حاصل کرنے ہدایت دی تاکہ جاریہ مقدمہ میں تلنگانہ حکومت بطور فریق شامل ہوسکے۔ ٹاملناڈو حکومت اور گورنر ٹاملناڈو کے درمیان بلز کی منظوری پر جاری تنازعہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ بی سی تحفظات کے لئے علیحدہ درخواست کے ادخال سے قانونی جدوجہد طویل ہوسکتی ہے لہذا گورنر اور صدر جمہوریہ کے اختیارات کے سلسلہ میں جاری مقدمہ میں فریق بننا بہتر رہے گا۔ جاریہ مقدمہ اسمبلی میں منظوری بلز کی یکسوئی میں تاخیر سے متعلق ہے۔ تلنگانہ حکومت کو سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق 30 ستمبر تک مجالس مقامی کے انتخابات کا مرحلہ مکمل کرنا ہے۔ کانگریس پارٹی نے اگرچہ متبادل حکمت عملی کے طور پر پارٹی کی سطح پر 42 فیصد ٹکٹ بی سی طبقات کو الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحفظات کی مرکز سے منظوری کے حصول کی آخری کوشش کے طور پر سپریم کورٹ کے مقدمہ میں بطور فریق شامل ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔ تلنگانہ اسمبلی میں پسماندہ طبقات کو تعلیم، روزگار اور سیاست میں 42 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے دو علیحدہ بلز منظور کرتے ہوئے گورنر کے پاس روانہ کئے گئے۔ گورنر نے دونوں بلز کو صدر جمہوریہ کی منظوری کے لئے روانہ کردیا۔ صدر جمہوریہ کی منظوری کی صورت میں پارلیمنٹ میں دستوری ترمیم کے ذریعہ تحفظات کے مجموعی فیصد میں اضافہ کرنا ہوگا۔ مرکز کی جانب سے بی سی تحفظات کی منظوری کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے کیونکہ بی جے پی ابتداء ہی سے مسلم تحفظات کا بہانہ بناکر بلز کی مخالفت کررہی ہے۔ بی جے پی کا مطالبہ ہے کہ 42 فیصد تحفظات خالص پسماندہ طبقات کو فراہم کئے جائیں اور اس میں مسلمانوں کی کوئی حصہ داری نہ ہو۔ واضح رہے کہ جس وقت اسمبلی میں دونوں بلز پیش کئے گئے تھے بی جے پی اور بی آر ایس نے تائید کی تھی۔ تلنگانہ حکومت کو امید ہے کہ اگر سپریم کورٹ گورنر اور صدر جمہوریہ کے لئے 90 دن کی مہلت کو برقرار رکھتا ہے تو ایسی صورت میں بی سی تحفظات کے قانون کو منظوری کا حصول آسان رہے گا۔ سپریم کورٹ میں مقدمہ کی یکسوئی میں اگر تاخیر کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں پنچایت راج اداروں کے انتخابات کا عمل شروع کیا جائے گا اور پارٹی ٹکٹ میں بی سی طبقات کو 42 فیصد حصہ داری دیتے ہوئے انتخابی وعدے کی تکمیل کی جائے گی۔ 1