بی سی تنظیموں کے بند کی تائید، صدر جمہوریہ اور وزیراعظم سے ملاقات کی مساعی
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ کانگریس حکومت پسماندہ طبقات کو انتخابی وعدہ کے مطابق 42 فیصد تحفظات کی فراہمی میں سنجیدہ ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ تلنگانہ حکومت نے طبقاتی سروے کا اہتمام کیا جس میں تمام طبقات کی سماجی ، معاشی ، تعلیمی اور سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ سروے کے اعداد و شمار کی بنیاد پر بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات کے حق میں اسمبلی میں متفقہ طور پر بل منظور کیا گیا جو گورنر کے پاس زیر التواء ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے 2018 کے مجالس مقامی چناؤ میں 50 فیصد تحفظات کی حد مقرر کرتے ہوئے قانون سازی کی تھی۔ کانگریس حکومت نے دو علحدہ بلز کے ذریعہ قانون میں ترمیم کی اور آرڈیننس جاری کئے۔ پسماندہ طبقات کو تعلیم اور روزگار میں 42 فیصد تحفظات بہر صورت فراہم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام قانونی پہلو کی تکمیل کی ہے اور حکومت کی سنجیدگی پر شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مرکز کی بی جے پی حکومت کو بی سی تحفظات کی راہ میں اہم رکاوٹ قرار دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ صدر جمہوریہ کے پاس زیر التواء بلز کی منظوری میں مودی حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔ سارا ملک جان چکا ہے کہ بی جے پی بی سی تحفظات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے وزیراعظم اور صدر جمہوریہ سے ملاقات کیلئے وقت مانگا تھا لیکن وقت نہیں دیا گیا۔ کل جماعتی وفد کے ساتھ نمائندگی کا منصوبہ ہے۔ کانگریس نے تحفظات کے حق میں نئی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا منظم کیا جس میں تمام قومی سیاسی پارٹیوں نے شرکت کی۔ بی جے پی نے حصہ نہیں لیا کیونکہ وہ تحفظات کے خلاف ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں موثر پیروی کے لئے نامور قانون داں ابھیشک منو سنگھوی اور روی ورما کی خدمات حاصل کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قانونی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے تحفظات پر عمل کیا جائے گا ۔ بھٹی وکرمارکا نے 18 اکتوبر کے بند کی تائید کا اعلان کیا اور کہا کہ پسماندہ طبقات کی تنظیموں نے سماجی انصاف کیلئے بند کی اپیل کی ہے اور کانگریس پارٹی ہمیشہ پسماندہ طبقات کے ساتھ ہے۔ انہوں نے مرکزی وزراء کشن ریڈی اور بنڈی سنجے سے مطالبہ کیا کہ وہ کل جماعتی وفد کی وزیراعظم سے ملاقات کا اہتمام کریں۔1