بی سی سی آئی قابل بھروسہ نہیں :احسان مانی

   

کراچی۔15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پی سی بی چیئرمین احسان مانی نے کہا ہیکہ پاکستان اور ہندوستان کی سیریز اگر نہیں ہوسکتی تو ہم ان سے کرکٹ کا سوچ نہیں رہے۔ ہندوستان سے نہ کھیلنے کا نقصان ہوتا ہے لیکن ہم اس حوالے سے سوچتے بھی نہیں۔ بی سی سی آئی قابل بھروسہ نہیں، وہ کئی بار معاہدہ کرکے توڑ چکا ہے۔ اگلے چند سال میں انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ نے پاکستان آنا ہے ہمارا تجارتی معاہدہ ختم ہوچکا ہے ہمارے لئے مشکل ہے کہ کورونا کے حالات میں اپنے تجارتی معاہدوں کی کس طرح تشہر کریں۔ ہوسکتا ہے براڈ کاسٹرز ہمیں اتنے پیسے نہ دے سکیں جو اس سے قبل دیتے تھے۔ ان معاہدوں کی تجدید بہت مشکل کام ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہندوستان کے بغیر کی اپنی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ ہم سیاست اورکھیل کو الگ الگ رکھتے ہیں۔ آئی سی سی ایونٹس کیلئے حکومت نے پورے تعاون کا اعلان کیا ہے۔ ورلڈ ٹسٹ چمپئن شپ متاثر ہوچکی ہے۔ اس بارے میں آئی سی سی سوچ وبچار کررہی ہے۔ پی سی بی کا موقف ہے کہ آئی سی سی کو ورلڈ ٹسٹ چمپئن شپ کا وقت بڑھانا چاہیے۔ تمام بورڈز اپنی صورتحال کا جائزہ لے کر آئی سی سی کو آگاہ کریں۔پی سی بی چیئرمین احسان مانی نے مزید کہا کہ ہم نے پانچ چھ ایونٹس کیلئے آئی سی سی کو کہا ہے۔ ایک دو ایونٹس کیلئے مشترکہ میزبانی کی بھی بات کی ہے، انڈر 19 سے لے کر ورلڈ کپ کی میزبانی کی خواہش ظاہر کی ہے۔امید ہے کہ ہمیں میزبانی ملے گی۔آئی سی سی کے رکن ملکوں کے لئے آگے مالی حالات آسان نہیں ہیں۔ ٹسٹ کھیلنے والے ملکوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنا ہے۔ ایشیا کپ کا انعقاد بھی ایک بڑا چیلنج ہے، یہ پاکستان یا ہندوستان کا معاملہ نہیں، پوری ایشیائی کرکٹ کا معاملہ ہے۔ ایشیا کپ کہاں ہوگا یہ کہنا مشکل ہے۔ احسان مانی نے کہا کہ انگلینڈ نے کہا تو انگلینڈ کا دورہ تاخیرکا شکار ہوسکتا ہے۔ امید ہے انگلینڈ آئرلینڈ اور ہالینڈ کے دورے پروگرام کے مطابق ہوں گے۔