بی سی سی آئی کے حلال غذا تنازعہ میں حقیقت پر سوال !

   

نفرت انگیزمہم ، بی سی سی شکار ، بی سی سی آئی کی تردید پر بھی شبہات
حیدرآباد۔24نومبر(سیاست نیوز) بی سی سی آئی حلال غذاء تنازعہ میں حقیقت کیا ہے! بی سی سی آئی کی جانب سے جاری کردہ کرکٹرس کے لئے ہدایات کرکٹرس کے لئے ہی تھیں یا پھر حلال لفظ کے سیاسی استعمال کے لئے تھیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ’’حلال‘‘ کے نام سے ہی نفرت ہے اور اس نفرت کی حد یہ ہے کہ حلال کے لئے کوئی بھی بات کرے وہ اس کے خلاف ہوجانا اپنی ذمہ داری سمجھنے لگے ہیں اور اسی نفرت انگیز مہم کا بی سی سی آئی کو شکار بنایا گیا ہے جبکہ بی سی سی آئی کے سیکریٹری خود مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے فرزند جئے شاہ ہیں۔ امیت شاہ کے فرزند جئے شاہ کے بی سی سی آئی سیکریٹری ہونے کے سبب ان شبہات کو تقویت ملنے لگی ہے کہ بی سی سی آئی کے ان احکامات کو سیاسی مدعا بنانے کے لئے ایک منظم سازش کی گئی ہے کیونکہ کیرالہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے حلال غذاء پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا جا رہاہے اور تلنگانہ میں بی جے پی رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ نے بھی دیوالی کے موقع پر ’’حلال فری دیوالی‘‘ منانے کی اپیل کے ساتھ یہ کہا تھا کہ جن مقامات پر حلال غذاء دی جاتی ہے ان مقامات پر جانے سے گریز کیا جائے۔بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا ( بی سی سی آئی) کی جانب سے ہندستانی کرکٹرس کو حلال غذاء کے استعمال کی ہدایات کے سلسلہ میں جو خبریں منظر عام پر آرہی تھیں ان پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان گورو گوئل کی جانب سے شدید تنقیدیں کی جانے لگی اور ٹیم کے ارکان کے علاوہ دیگر عملہ کے لئے حلال غذاء کے استعمال کی ہدایات کے معاملہ پر سوشل میڈیا پر بھی شدید اعتراضات کئے جانے لگے ہیں ۔ ملک بھر میں منافرت کے لئے ایسے تمام الفاظ کا استعمال کیا جا رہاہے جو کہ مخصوص مذہب کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ لو جہاد‘ گاؤ کشی ‘ شمشان ‘ قبرستان‘ دیوالی ‘ رمضان سے شروع ہونے والی بات چیت اب اردو لفظ جشن رواج کے استعمال سے ’حلال‘ تک پہنچ چکا ہے۔ ہندستانی کرکٹرس کی جانب سے گائے کے گوشت کے استعمال کے علاوہ خنزیر کے استعمال کی اطلاعات کے منظر عام پر آنے کے بعد ہونے والی ہنگامہ آرائی پر قابو پانے میں بی سی سی آئی کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اب بی سی سی آئی نے ہندستانی کرکٹرس اور عملہ کے لئے ’حلال‘ غذاء کی ہدایات جاری کی تو اس کے بعد دوبارہ ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی اور اب بی سی سی آئی کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ ایسی کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ بی سی سی آئی کے ٹریژرر ارون دھومل نے ا س سلسلہ میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بی سی سی آئی نے ایسے کوئی رہنمایانہ خطوط جاری نہیں کئے ہیں اور ہندستانی کرکٹرس کی غذاء پر کوئی تحدیدات عائد نہیں کی گئی ہیں بلکہ انہیں اختیار ہے وہ کوئی بھی غذاء استعمال کریں۔بی سی سی آئی کے احکامات اور ان پر بحث و مباحث کے بعد یہ بات واضح ہونے لگی ہے کہ بی سی سی آئی کی جانب سے کرکٹرس کے لئے ہدایات لفظ ’’ حلال ‘‘ کو زیر بحث لانے کے لئے جاری کی گئی تھیں اور اسے گاؤکشی‘ لو جہادکے علاوہ دیگر کی طرح استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔م