بی سی کمیشن و ایس سی کارپوریشن کی تشکیل ، اقلیتی کمیشن نظر انداز

,

   

حضورآباد کے قائدین کو اہم عہدے، اقلیتی مسائل کے حل کا اہم ادارہ سربراہ کے بغیر
حیدرآباد۔/29 اگسٹ، ( سیاست نیوز) حضورآباد ضمنی چناؤ میں کامیابی کیلئے حکومت کی جانب سے نئی اسکیمات اور نامزد عہدوں پر تقررات نے ایک طرف دیگر طبقات کے قائدین میں بے چینی پیدا کردی تو دوسری طرف اقلیتی طبقہ کے قائدین مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ ایس سی طبقہ کے اداروں پر تقررات کئے گئے جبکہ اقلیتی اداروں کو نظرانداز کردیا گیا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 23 جولائی کو حضور آباد سے تعلق رکھنے والے بنڈا سرینواس کو ایس سی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا صدرنشین مقرر کیا۔ بنڈا سرینواس سابق وزیر ایٹالہ راجندر کے انتہائی قریبی ساتھی تھے لیکن انہوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی جس کے فوری بعد انہیں کارپوریشن کا صدرنشین مقرر کیا گیا۔ اس تقرر کے ٹھیک ایک ماہ بعد 23 اگسٹ کو چیف منسٹر نے تلنگانہ بیاک ورڈ کلاسیس کمیشن کی تشکیل جدید عمل میں لائی اور حضورآباد سے تعلق رکھنے والے کرشنا موہن راؤ کو صدرنشین اور دیگر 3 ارکان کو نامزد کیا۔ کرشنا موہن راؤ گذشتہ بی سی کمیشن میں رکن تھے لیکن اس مرتبہ حضور آباد ضمنی چناؤ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے انہیں کمیشن کا صدرنشین مقرر کیا گیا۔ جس طرح بی سی کمیشن ایک دستوری ادارہ ہے ٹھیک اسی طرح اقلیتی کمیشن بھی دستوری ادارہ ہے اور اسے حکومت زیادہ دنوں تک تشکیل کے بغیر نہیں رکھ سکتی۔ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی کمیشن کی تشکیل کے سلسلہ میں ہائی کورٹ کے احکامات کے سبب حکومت نے فوری کارروائی کی لیکن افسوس کہ تلنگانہ اقلیتی کمیشن کی تشکیل جدید عمل میں نہیں لائی گئی۔ بی سی کمیشن اور اقلیتی کمیشن دونوں کی میعاد ایک ساتھ ختم ہوئی تھی۔ کمیشن کے سابق صدرنشین قمر الدین کو چیف منسٹر نے میعاد میں توسیع کا تیقن دیا تھا لیکن آج تک کمیشن کی تشکیل عمل میں نہیں لائی گئی جس کے نتیجہ میں اقلیتوں کو اپنے مسائل کے سلسلہ میں نمائندگی کا ایک اہم موقع دستیاب نہیں ہے۔ اقلیتی کمیشن چونکہ دستوری ادارہ ہے اور اس کے صدرنشین کو مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہیں لہذا اقلیتوں کے مسائل کے حل میں کمیشن اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ گزشتہ کمیشن نے اپنی میعاد کے دوران اقلیتوں سے متعلق کئی اہم مسائل کی یکسوئی میں اہم رول ادا کیا اور کئی محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کو کمیشن طلب کیا گیا تھا۔ ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائدین کا کہنا ہے کہ جب بی سی کمیشن اور ایس سی کارپوریشن تشکیل دیا جاسکتا ہے تو پھر اقلیتی کمیشن نظر انداز کیوں؟ ۔ اسکیمات اور عہدوں پر تقررات کا راست تعلق حضورآباد کے ضمنی چناؤ سے ہے اور حضورآباد میں اقلیتوں بالخصوص مسلم رائے دہندے اثر انداز ہونے کے موقف میں نہیں ہیں لہذا حکومت نے بی سی کمیشن کے ساتھ اقلیتی کمیشن کی تشکیل پر توجہ نہیں دی ہے۔R