لندن: برطانوی حکومت کو اس بات کا احساس ہوگیا ہیکہ کبھی کبھی ملزمین کو غلط فیصلوں کے تحت طویل سزائے قید بھگتنی پڑتی ہے جن میں ایک کیس اینڈریو مالکنسن نامی شخص کا ہے جس پر الزام تھا کہ اس نے 2003ء میں سالفورڈ نامی مقام پر ایک خاتون کی عصمت ریزی کی تھی جبکہ حقیقت میں اس نے ایسا کوئی جرم کیا ہی نہیں تھا۔ مزے کی بات یہ ہیکہ اسے بطور ہرجانہ جو رقم دی جائے گی اس م یں سے ایک لاکھ پاونڈس (جو ہندوستان کے ایک کروڑ 6 لاکھ88 ہزار 639 روپئے بنتے ہیں کو معاوضہ کی رقم میں سے منہا کیا جائے گا تاکہ جیل میں اس کے قیام و طعام کی رقم وصول کی جاسکے۔ 17 سال کی طویل قید اور پھر قیام و طعام اور قانونی کشاکش کی فیس بھی اسے ہی ادا کرنا ہے حالانکہ ناانصافی کا بوجھ بھی اسی شخص نے سہا۔ حالانکہ جولائی کے مہینے میںہی ایک اپیل کورٹ نے مالکنسن کو سزائے قید کے علاوہ اس پر عائد کئے گئے الزامات پر بھی کلین چٹ دیدی تھی۔ وزیر انصاف الیکس چاک کا کہنا ہیکہ اس طرح کے واقعات میں ملزمین کو جیوری اور اپیل سسٹم تبدیل کرتے ہوئے راحت پہنچانے کی ضرورت ہے اور اس نوعیت کے کیسیز کی عاجلانہ طور پر یکسوئی کرنے کی بھی ضرورت ہے۔