تاجدار ولایت حضرت غوث اعظم دستگیر ؒ

   

ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
آج 11ربیع الثانی ہے ۔شہنشاہ ولایت کا تذکرہ پڑھیں گے جب ہم ولایت کے تمام معانی و مفاہیم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس حوالے سے حضرت غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ آسمانِ ولایت پر سب سے بلند و ارفع ستارے کی مانند چمکتے دمکتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہم اکثر حضرت غوث الاعظمؒ کے ان اقوال اور کرامات کو بیان کرتے ہیں جو صوفیاء و اولیاء کی کتابوں میں ہیں مگر یہ امر ذہن نشین رہے کہ محدثین، فقہاء اور ائمہ علم نے بھی تواتر کے ساتھ آپ ؒکے علمی و روحانی مقام کو بیان فرمایا ہے۔ صرف عقیدت مندوں ہی نے آپ کا یہ مقام نہیں بنارکھا بلکہ جلیل القدر ائمہ علم، ائمہ تفسیر اور ائمہ حدیث نے بھی اسے بیان کیا ہے۔امام یافعی الشافعی لکھتے ہیں کہ سیدنا غوث الاعظم ؒ کی کرامات کے تواتر پر اجماع ہے اور اس پر کسی نے انکار نہیں کیا۔اسی طرح امام ابو الحسن علی بن جریر الشافعی، ملا علی قاری، امام ذہبی اور دیگر ائمہ نے بھی آپ کے علمی و روحانی مقام کو بیان کیا ہے:حضرت سیدناغوث اعظم ؒنہ صرف خود محدث، مفسر اور امام تفسیر ہیں بلکہ آپ کے دس کے دس صاحبزادے وقت کے عظیم محدث اور فقیہ ہوئے۔ آپ کے نہ صرف صاحبزادے بلکہ پوتے، پوتیاں اور پڑپوتے پڑپوتیاں بھی محدث ہیں۔ صاحب کلائد الجواہر نے اپنی زندگی میں حضور غوث الاعظم ؒکے 12 پشتوں تک کے احوال کا مطالعہ کیا، وہ لکھتے ہیں کہ آپ ؒکی بارہ پشتوں تک کے افراد میں نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی عظیم مفسرین، محدثین، فقہاء اور ائمہ علم ہوئی ہیں یعنی اتنا علم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سرکارِ غوث پاک کی اولاد نے ان کے فیض سے تقسیم کیا ہے۔آپ کی مجلس درس میں 300 سے زائد کبار اولیاء موجود ہوتے اور سینکڑوں کی تعداد میں رجال الغیب موجود ہوتے۔ آپ نے امرِ الٰہی کے تحت جب یہ ارشاد فرمایا:’میرا یہ قدم روئے زمین کے ہر ولی کی گردن پر ہے۔‘آپ ؒکے اعلان کے وقت جتنے اولیاء آپ کی مجلس میں موجود تھے انہوں نے نہ صرف اپنے سروں کو جھکا کر اطاعت کا اعلان و اظہار کیا بلکہ اس وقت روئے زمین پر جتنے بھی اولیاء و صلحاء موجود تھے، انہوں نے بھی اپنے اپنے مقامات پر آپ ؒکی ولایتِ کبریٰ کے سامنے سرِتسلیم خم کیا۔
حضر ت سیدنا غوث اعظم الشیخ عبدالقادر جیلانی حسنی و حسینی ؒ کا ولایت و روحانیت میں مرتبہ و مقام اس قدر بلند ہے کہ آپ مرکز دائرہ قطبیت اور محور مرتبہ غوثیت ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے مظہر شان نبوت اور مصدر فیضان ولایت بنایا ہے۔
سیدنا غوث اعظم ؒ تصوف کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں:بندے تو شوق اور اشتیاق سے اللہ کو یاد کر، وہ تجھے تقرب اور وصال سے یاد کرے گا۔ تو حمد و ثنا سے اسے یاد کر، وہ تمہیں انعام و احسان سے یاد کرے گا۔ تو اسے توبہ سے یاد کر، وہ تجھے بخشش سے یاد کرے گا تو اسے ترکِ غفلت سے یاد کر، وہ تجھے ترکِ مہلت سے یاد کرے گا۔ تو اسے ندامت سے یاد کر، وہ تجھے کرامت سے یاد کرے گا۔ تو اسے معذرت سے یاد کر، وہ تجھے مغفرت سے یاد کرے گا۔ تو اسے اخلاص سے یاد کر، وہ تجھے نفس سے خلاصی سے یاد کرے گا۔ تو اسے تنگ دستی میں یاد کر، وہ تجھے فراخ دستی سے یاد کرے گا۔ تو اسے فنا ہوکر یاد کر، وہ تجھے بقا دے کر یاد کرے گا۔ تو اسے صدق سے یاد کر، وہ تجھے رزق سے یاد کرے گا۔ تو اسے تعظیم سے یاد کر، وہ تجھے تکریم سے یاد کرے گا۔ تو اسے ترکِ خطا سے یاد کر، وہ تجھے بخشش و عطا سے یاد کرے گا۔
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ اُم الخیر بیان فرماتی ہیں کہ ولادت کے ساتھ احکامِ شریعت کا اِس قدر احترام تھا کہ حضرت غوث اعظم ؒرمضان میں دن بھر میں کبھی دودھ نہیں پیتے تھے۔ ایک مرتبہ اَبر کے باعث 29شعبان کو چاند کی رویت نہ ہوسکی لوگ تردوّمیں تھے لیکن اِس مادر زادولی حضرت غوث اعظمؒ نے صبح کو دودھ نہیں پیا۔ بالآخر تحقیق کے بعد معلوم ہواکہ آج یکم رمضان المبارک ہے۔ آپ کی والدہ محترمہ کا بیان ہے کہ آپ کے پورے عہدِ رضاعت میں آپ کا یہ حال رہا کہ سال کے تمام مہینوں میں آپ دودھ پیتے رہتے تھے لیکن جوں ہی رمضان کا مبارک مہینہ آتا ،آپ کایہ معمول رہتاتھا کہ طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک قطعاََ دودھ نہیں پیتے تھے۔خواہ کتنی ہی دودھ پلانے کی کوشش کی جاتی یعنی رمضان کے پورے مہینہ آپ دن میں روزہ سے رہتے تھے اور جب مغرب کے وقت اذان ہوتی اور لوگ افطارکرتے توآپ بھی دودھ پینے لگتے تھے۔ ابتدا ہی سے اللہ رب العزت کی نوازشات سرکارغوث اعظم ؒکی جانب متوجہ تھیں پھر کیوں کوئی آپؒ کے مرتبہ فلک کو چھوسکتا یا اِس کااندازہ کرسکے چنانچہ سرکارِ غوث اعظمؒ اپنے لڑکپن سے متعلق خود ارشاد فرماتے ہیں کہ عمر کے ابتدائی دور میںجب کبھی میں لڑکوں کے ساتھ کھیلنا چاہتاتو غیب سے آواز آتی تھی کہ لہوولعب سے بازرہو۔ جِسے سن کر میں رک جایا کرتا تھا اور اپنے گردوپیش جو نظرڈالتاتومجھے کوئی آوازدینے والا نہ دِکھائی دیتاتھاجس سے مجھے دہشت سی معلوم ہوتی اور میں جلدی سے بھاگتاہواگھرآتااور والدہ محترمہ کی آغوش محبت میں چھپ جاتاتھا۔
اَب وہی آواز میں اپنی تنہائیوں میں سنا کرتاہوں اگر مجھ کو کبھی نیند آتی ہے تو وہ آواز فوراََ میرے کانوں میں آکرکے مجھے متنبہ کردیتی ہے کہ تم کو اِس لئے نہیں پیداکیا گیا ہے کہ تم سویاکرو۔
مشہور روایت ہے کہ جب سیدناسرکار غوث اعظم ؒ کی عمر شریف چارسال کی ہوئی تو رسم ورواج ِاسلامی کے مطابق والد محترم سیدناشیخ ابوصالح جن کا لقب’’ جنگی دوست ‘‘ ہے اِس کی وجہ سے ’’قلائدالجواہر‘‘میں بتائی گئی ہے کہ آپ جنگ کو دوست رکھتے تھے ریاض الحیات میں اِس لقب کی تشریح یہ بتائی گئی ہے کہ آپ اپنے نفس سے ہمیشہ جہادفرماتے تھے اور نفس کشی کوتزکیہ نفس کا مدار سمجھتے تھے۔ وہ آپ کو رسم بسم اللہ خوانی کی ادائیگی اور مکتب میں داخل کرنے کی غرض سے لے گئے اور استاد کے سامنے آپ دوزانوں ہوکر بیٹھ گئے استاد نے کہا! پڑھو بیٹے بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ آپ نے بسم اللہ شریف پڑھنے کے ساتھ ساتھ الم سے لے کر مکمل اٹھارہ 18 پارے زبانی پڑھ ڈالے۔ استاد نے حیرت کے ساتھ دریافت کیا کہ یہ تم نے کب پڑھا…؟ اور کیسے پڑھا…؟ تو آپ نے فرمایا کہ والدہ ماجدہ اٹھارہ سِپاروں کی حافظہ ہیں جن کا وہ اکثر وردکیاکرتی تھیں جب میں شکمِ مادر میں تھا تو یہ اٹھارہ سپارے سنتے سنتے مجھے بھی یاد ہوگئے تھے۔