تاج محل میں گنگاجل چھڑکنے پر 2 شرپسندگرفتار

,

   

تاریخی عمارت تاج محل نہیںشیومندر ہونے کا دعویٰ

آگرہ: 17ویں صدی کی یادگارِ محبت تاج محل میں ہفتہ کی صبح گنگاجل چھڑکنے پر 2 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ یہ لوگ پلاسٹک کی بوتلوں میں گنگاجل لیکر آئے تھے۔ دونوں کا ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے پر انہیں گرفتار کیا گیا جس میں وہ پانی چھڑکتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ اُن کی دلیل ہے کہ تاج محل تاریخی عمارت نہیں ہے بلکہ شیومندر ہے اور انہوں نے اوم لکھے ایک اسٹیکر پر پانی چھڑکا۔ پولیس نے یہ بات بتائی۔ تاج محل کا نام بدلنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اکثر وبیشتر یہاں آرتی یا پوجا کی کوششیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔مقامی سطح پر عدالت میں ایک کیس بھی چل رہا ہے جس میں پوجا پاٹھ کی اجازت مانگی گئی ہے۔ ہندوتواآئیڈیالوجی والے تاج محل کو اکثر تیجومہالئے کہتے ہیں۔ آگرہ سٹی کے ڈی سی پی سورج رائے نے بتایا کہ دونوں تاج گنج پولیس اسٹیشن میں زیرحراست ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔ پوچھ تاچھ پر مزید تفصیلات سامنے آنے کی امید ہے۔