تارکین وطن ملک کی معیشت کو بہتر بناتے ہیں

   

امریکی شہریوں سے کئے گئے ایک سروے میں نوجوانوں کی کثیر تعداد کی رائے میں نمایاں تبدیلی

نیویارک : رائے عامہ کے ایک نئے جائزے کے مطابق امریکہ آنے والے تارکین وطن کی افادیت یا اس کے نقصانات کے بارے میں ریپبلیکنز اور ڈیمو کریٹس کی سوچ میں اختلاف نظر آتا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق اب سے کچھ برس پہلے کے مقابلہ میں اب امریکی، قانونی تارکین وطن کے امریکہ میں جرائم کے ارتکاب کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں۔ یہ تبدیلی زیادہ تر ریپبلیکنز میں بڑھتی ہوئی تشویش کے سبب آئی ہے جب کہ ڈیموکریٹس امیگریشن کے متعدد فوائد دیکھتے ہیں۔ اسو سی ایٹڈ پریس اور NORC سینٹر برائے پبلک افئیرز ریسرچ کے جائزے سے پتہ چلا کہ امریکہ میں بالغوں کی خاصی تعداد باور کرتی ہے کہ تارکین وطن ملک کی اقتصادی نشو و نما میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ اور ساتھ ہی امریکی ثقافت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن جب بات قانونی امیگریشن کی ہو تو امریکی بالغوں کو ماضی کے مقابلہ میں چند ہی بڑے فائدے جب کہ بڑے خطرات زیادہ نظر آتے ہیں۔ دس میں سے کوئی چار امریکی کہتے ہیں کہ جب تارکین وطن قانونی طور پر امریکہ آتے ہیں تو امریکی کمپنیوں کے لئے سائینس اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں ہنرمند کارکنوں کی مہارت کا حصول ایک بڑا فائدہ ہے اور اتنے ہی لوگ یعنی 38 فیصد کا کہنا ہے کہ قانونی تارکین وطن امریکی ثقافت اور اقدار کو تقویت دے کر ایک بڑا فائدہ پہنچاتے ہیں۔ یہ دونوں اعدادوشمار 2017 کے مقابلہ میں نچلی سطح پر تھے جب 59 فیصد امریکیوں کا کہنا تھا کہ ہنر مند تارکین وطن جو قانونی طور پر ملک میں آتے ہیں۔ ان کا بڑا فائدہ ہے جب کہ نصف کا کہنا تھا کہ قانونی تارکین وطن امریکی ثقافت کو افزودگی دے کر ایک بڑا فائدہ پہنچاتے ہیں۔ ادھر ان امریکیوں کی تعداد، جو کہتے ہیں کہ اس بات کا بڑا خطرہ ہے کہ قانونی تارکین وطن امریکہ میں جرائم کا ارتکاب کر سکتے ہیں اب بڑھ گئی ہے۔ اور سن 2000 میں 19 فیصد کے مقابلہ میں اس نئے جائزے میں یہ تعداد 32 فیصد ہو گئی ہے۔ سروے میں شامل کوئی نصف امریکی اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ ان تارکین وطن کی تعداد کم کی جائے جنہیں امریکہ میں پناہ لینے کی اجازت اس وقت دی جاتی ہے جب وہ سرحد پر پہنچتے ہیں۔ لیکن اس بارے میں جماعتی بنیاد پر کہیں زیادہ بڑا اختلاف ہے اور ڈیموکریٹس سے زیادہ ریپبلیکنز اس حکمت عملی کی حمایت کرتے ہیں۔ دریں اثناء کانگریس نے بالکل حال ہی میں دو ہزار مزید سرحدی گشتی ایجنٹ بھرتی کرنے کے لیے رقم کی منظوری دی ہے لیکن مزید امیگریشن جج بھرتی کرنے کے لیے فنڈنگ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا ہے۔