واشنگٹن: لاطینی امریکہ کے ملک ایکواڈور سے تعلق رکھنے والے سولہ سالہ نوجوان ہوزے بوئے ڈوانا کو اپنے والدین سے ملنے کیلئے سولہ برس انتظار کرنا پڑا۔ ہوزے نے سن دوہزار بیس کے اواخر میں فیصلہ کیا کہ اسے امریکہآنا چاہئیے، اور پھر اس نے امریکہ کی جنوبی سرحد تک پہنچنے کیلئے تین ہزار میل کا سفر طے کیا۔ہوزے نے نمائندہ کو بتایا کہ وہ 26 جنوری کو میکسیکو کی سرحدی گزر گاہ پار کرکے امریکہ میں داخل ہوا۔ اس نے بتایا کہ اْسے ریاست ٹیکساس میں امریکی حکومت کے تحت چلنے والے ایک سینٹر پر دو ماہ تک روکے رکھا گیا۔حالیہ مہینوں میں، بغیر ماں باپ کے دسیوں ہزاروں کم سن بچوں کو امریکہ میکسیکو سرحد پر روک دیا گیا، جس کی وجہ سے بائیڈن انتظامیہ کو انہیں ٹھہرانے کیلئے مجبوراً مزید سینٹر بنانے پڑے، جن میں سے چند عارضی ہیں۔صدر بائیڈن کے دور میں امریکہ نے ترکِ وطن کرنے والے نوجوانوں کیلئے چودہ نئے پناہ گزیں سینٹر بنائے ہیں۔ اسی دوران، میکسیکو کے صدرآندرے مینوئیل لوپیز نے حال ہی میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کی انتظامیہ نے میکسیکو کی سرحد کے ساتھ بھی نئے پناہ گزیں سینٹر بنائے ہیں۔ سرحد پرآنے والے بغیر والدین کے بچوں کو ان کے قریبی رشتہ داروں کے حوالے کرنے سے پہلے، دو مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ پہلے انہیں سرحد کی نگرانی کیلئے قائم سٹیشن پر لے جایا جاتا ہے۔ تاہم، انہیں 72 گھنٹوں کے اندر اندر آفس آف رفیوجی ری سیٹلمینٹ کے حوالے کرنا ہوتا ہے۔ یہ دفتر امریکی محکمہ ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے تحت کام کرتا ہے، جو انہیں بچوں کیلئے بنائے گئے خصوصی سینٹروں میں ٹھہراتے ہیں۔ہوزے اس تجربے سے خود گزرا ہے۔ گزشتہ ماہ حکام نے ہوزے کو اس کے ماں باپ کے حوالے کر دیا جو یہاں امریکہ میں ہی مقیم ہیں۔ تاہم، اس سے پہلے یہ تصدیق کی گئی کہ وہ واقعی اس کے ماں باپ ہیں۔
