طلبہ کی پڑھائی پر منفی اثر، عنقریب مابقی اساتذہ کی بھی سبکدوشی
حیدرآباد 20 ستمبر (سیاست نیوز) عالمی سطح پر شہرت یافتہ عثمانیہ یونیورسٹی اب فیکلٹی کی کمی کی وجہ سے لاکھوں طلباء کا مستقبل تاریک ہوتا جارہا ہے کیوں کہ جامعہ میں اس وقت فیکلٹیز کی شدید قلت ہے۔ قدیم یونیورسٹی نیاک اے پلس یونیورسٹی وتھ پوٹنشیل فار ایکسلنس (یو پی ای) جیسی ممتاز خصوصیات کی بناء روسا اسکیم کے تحت اس مالی سال میں 100 کروڑ روپئے حاصل کی ہے اور اس عظیم الشان و تاریخی عظمت والی یونیورسٹی کے لئے تدریسی عملے کی قلت سے تشویش پیدا ہورہی ہے۔ دراصل یونیورسٹی کی شان میں اضافہ کے لئے تدریسی عملہ کی درکار تعداد میں موجودگی اور تدریسی عملہ ہے مگر ہر ایک شعبہ کے لئے درکار تدریسی عملہ کی تعداد سے نصف سے بھی کم ہے اور موجودہ عملہ میں بھی اکثر وظیفہ پر سبکدوشی کے قریب ہیں۔ اس سے اس بات کا خدشہ لاحق ہے کہ کہیں یونیورسٹی اپنی ممتاز خصوصیات سے محروم نہ ہوجائے۔ حالانکہ یونیورسٹی کے جملہ 62 شعبہ جات میں 1267 تدریسی عملہ کی ضرورت ہے مگر 458 کی تعداد میں ہی تدریسی عملہ ہے۔ اور مابقی 809 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ 2005 ء میں پروفیسر آنند کرشنن کمیٹی کی سفارشات کے مطابق مخلوعہ جائیدادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے 294 تدریسی عملہ کے تقررات کا فیصلہ کیا تھا اور اس فیصلے کے تحت 2013 ، 2007 میں ان جائیدادوں پر تقررات عمل میں لائے گئے تھے اور 2005 ئسے تدریسی عملہ کے تقررات نہیں کئے گئے۔