حیدرآباد۔3اگسٹ(سیاست نیوز) مکہ مسجد ، شہر حیدرآباد میں ایک مرکزی عبادتگاہ کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی دلچسپی کا بھی مقام ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تاریخی مکہ مسجد کو ریاستی حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے تاریخی و سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دینے کے اقدامات کے بجائے ان میں رکاوٹیں پیدا کرنے میں زیادہ دلچسپی ہے۔ ملک بھر میں مرکزی و ریاستی حکومتوں کے زیر انتظام سیاحتی و تفریحی مقامات کے علاوہ عبادتگاہوں کوعوام کے لئے کھول دیا گیا ہے لیکن مکہ مسجد اب بھی صرف بوقت نماز اور صرف مصلیوں کے لئے کھلی رکھی جا رہی ہے اور حکومت کی واضح ہدایات کے باوجود مسجد کے مرکزی باب الداخلہ پر بورڈ آویزاں کرتے ہوئے ویزیٹرس کے داخلہ پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاریخی مکہ مسجد کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی بے اعتنائی اور محکمہ اقلیتی بہبود کی لاپرواہی کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتاہے کہ ریاستی حکومت اور خود مکہ مسجد انتظامیہ اس بات کے حق میں نہیں ہے کہ مکہ مسجد کی خوبصورتی اور اس کے تاریخی اہمیت سے لوگ واقفیت حاصل کریں۔کورونا وائرس کے پہلے لاک ڈاؤن کے بعد ریاست بھر کی تمام عبادتگاہیں کھول دی گئی تھیں جن میں مساجد ‘ منادر‘ گرجا گھر اور دیگر مقامات شامل تھے لیکن مکہ مسجد انتظامیہ کی جانب سے کئی ماہ تک مسجد کو مقفل رکھا گیا اور اب جو صورتحال ہے اس کے مطابق بھی مکہ مسجدمیں گھومنے کے لئے پہنچنے والے سیاحوں کو داخلہ نہ دیئے جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے ایک مخصوص طبقہ کے مذہبی مقامات کو فروغ دیا جا رہا ہے اور مکہ مسجد کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہاہے جبکہ مکہ مسجد بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ دوسرے مرحلہ کے لاک ڈاؤن کے بعد بھی اب تک مکہ مسجد کو نماز کے اوقات کی حد تک کھلا رکھا جا رہاہے۔ گذشتہ لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد جب مساجد کو کھول دینے کے احکامات جاری کردیئے گئے تھے اس کے باوجود مکہ مسجد کی کشادگی میں کئی ماہ لگائے گئے اور اب دوسرے مرحلہ کے لاک ڈاؤن کے بعد بھی مکہ مسجد کو مخصوص اوقات میں ہی کھولنے کے اقدامات کے سبب مقامی عوام ‘ مصلیوں اور اطراف کے بازار وں کے تاجرین کی جانب سے حیرت کا اظہار کیا جا رہاہے اورکہا جار ہاہے کہ تاریخی چارمینار کے مشاہدہ کے لئے پہنچنے والوںکو اجازت دی جا رہی ہے لیکن مکہ مسجد کا مشاہدہ کرنے کے لئے آنے والوں کو یہ کہتے ہوئے روکا جا رہاہے کہ کورونا وائرس کے احکامات کے سبب یہ احتیاطی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔