رمضان المبارک تک تکمیل ممکن نہیں، عمارت کی بنیادوں کو خطرہ، جانماز، وضوخانہ اور ٹائیلٹس پر توجہ درکار
حیدرآباد۔ حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد کے تعمیری و مرمتی کاموں کا تقریباً ایک سال بعد دوبارہ آغاز ہوا ہے اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ رمضان المبارک تک یہ کام مکمل کرلئے جائیں گے۔ حکومت کی عدم دلچسپی اور عہدیداروں کی نااہلی کے نتیجہ میں گذشتہ دو برسوں سے تاریخی مکہ مسجد کے تعمیری اور مرمتی کام تعطل کا شکار ہیں اور جن اداروں کو یہ کام الاٹ کیا گیا تھا وہ لاک ڈاؤن سے قبل ہی کام چھوڑ کر چلے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے نئے کنٹراکٹر کو یہ کام حوالے کیا ہے جس نے مقبرہ ، مدرسہ اور گیٹ کی تزئین نو کا کام انجام دیا تھا۔ نئے کنٹراکٹر نے8 جنوری کو مرمتی کاموں کا مسجد کے اندرونی حصہ میں آغاز کرتے ہوئے 3 گنبدوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ تعمیری اور مرمتی کاموں کی انجام دہی کیلئے مچان لگائے گئے ہیں جس کے سبب مسجد کے اندرونی حصہ میں نماز کیلئے جگہ مزید تنگ ہوچکی ہے۔ مکہ مسجد کے 16 گنبدوں میں سے 6 کا کام مکمل ہوا اور مزید 10 کا کام باقی ہے۔ امکان ہے کہ یہ کام مزید ایک سال تک جاری رہے گا۔ اندرونی حصہ میں 196 چھوٹی لکڑی کی کھڑکیاں ہیں جنہیں نکال کر مرمت اور صفائی کے بعد دوبارہ نصب کیا جائے گا۔ ان قدیم اور نادر کھڑکیوں کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں ہے انہیں کھلے میدان میں چھوڑ دیا گیا تھا تاہم بعد میں انہیں مدرسہ میں محفوظ کیا گیا۔ کھڑکیوں کو نقصان کی صورت میں متبادل کھڑکیوں کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔ مسجد میں قالین ناقابل استعمال ہوچکے ہیں۔ 2008 میں اُسوقت کے وزیر اقلیتی بہبود محمد علی شبیر نے قالینوں کا انتظام کیا تھا اور 12 سال گذرنے کے بعد اب یہ قالین ناقابل استعمال ہوچکے ہیں۔ حکومت کی نئی قالین یا نئی جانمازوں کے انتظام میں دلچسپی دکھائی نہیں دیتی۔ جمعہ کے موقع پر مصلیوں کی کثیر تعداد کے باوجود موجودہ ناقص قالینوں کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ مسجد کے اندرونی حصہ کے علاوہ حوض کی تعمیر کا کام بھی شروع کیا گیا ہے جس میں بنیادی کام پانی کی نکاسی کی لائن کی تعمیر ہے۔ فی الوقت پانی کی نکاسی کیلئے مناسب لائن نہیں ہے جس کے نتیجہ میں پانی عمارت کی بنیادوں میں داخل ہورہا ہے جس سے مسجد کی پختگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ آرکیالوجیکل سروے کے ماہرین نے مسجد کا دورہ کرتے ہوئے مقبرہ کا حصہ زمین میں دھنس جانے کی نشاندہی کی ۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے صحن اور بنیادوں میں پھیلاؤ کے نتیجہ میں مقبرہ زمین میں دھنس رہا ہے اگر حکام نے فوری توجہ نہیں دی تو نہ صرف مقبرہ بلکہ مسجد کی حقیقی عمارت کی بنیادیں کمزور ہوسکتی ہیں۔ مکہ مسجد میں ٹائیلٹس کا کام بھی ادھورا ہے اور وضو خانے نہ ہونے سے مصلیوں کو دشواری ہورہی ہے۔ حکومت نے نماز کی اجازت تو دے دی لیکن وضؤ خانے، جانماز اور ٹائیلٹس کا انتظام نہیں کیا گیا۔ مسجد کے صحن میں بلدیہ کی جانب سے گذشتہ سال موسم گرما میں شیڈ کا انتظام کیا گیا تھا لیکن بتایا جاتاہے کہ کنٹراکٹر کو رقم ادا نہیں کی گئی لہذا اُس نے صحن سے شیڈ کو نکال دیا۔ جمعہ کے موقع پر مصلی دھوپ میں نماز ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ مکہ مسجد کے انتظامات کے سلسلہ میں سب سے اہم مسئلہ گودام کی کمی کا ہے۔ جانمازیں، قرآن مجید کے نسخے، پارے اور دیگر سامان کو محفوظ کرنے کیلئے گودام کا انتظام نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مکہ مسجد کے مسائل کے سلسلہ میں حکومت کو تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی اور گودام کیلئے لائبریری کی بلڈنگ کا غیر مستعملہ حصہ حوالے کرنے کی درخواست کی گئی لیکن آج تک حکام نے اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ گذشتہ کئی برسوں سے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا مسئلہ بھی حکومت کے پاس زیر التواء ہے۔ اب جبکہ ایک سال کے وقفہ کے بعد تعمیری اور مرمتی کاموں کا آغاز ہوا لہذا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سختی سے ان کاموں کی نگرانی کرے تاکہ معیاری کام انجام پائے۔ مکہ مسجد کے مصلیوں اور مقامی افراد نے حکومت اور عہدیداروں کے رویہ پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔