عہدیداروں کو نشاندہی کی ہدایت، تالاب کے پُشتوں کی تعمیر کا فیصلہ، مستقبل میں سیلاب سے بچنے کے اقدامات
حیدرآباد۔ حکومت نے حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے تالابوں، جھیلوں اور نالوں کے اطراف و اکناف آبگیر علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اکٹوبر 2020 میں شدید بارش اور سیلاب کی صورتحال سے ہزاروں خاندان متاثر ہوئے تھے اور تباہی کی یادیں آج بھی متاثرین اور حکام کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے حکومت نے آبگیر علاقوں میں غیر مجاز تعمیرات کی نشاندہی کی کام شروع کیا ہے تاکہ انہیں جنگی خطوط پر منہدم کیا جاسکے۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق آؤٹر رنگ روڈ کے حدود میں واقع شہری مجالس مقامی میں حکومت نے 2800 کروڑ کے کاموں کی تجویز رکھی ہے۔ ان کاموں کے ذریعہ سیلاب کے پانی کو نشیبی علاقوں میں داخل ہونے سے روکا جاسکے گا اور تالابوں کے پُشتے تعمیر کرتے ہوئے پانی کے اخراج کو روکنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ بارش کے پانی کے بہاؤ کیلئے اسٹرارم واٹر ڈرین کا عصری نیٹ ورک قائم کیا جائے گا۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ زون کی سطح پر منصوبہ بندی کرے تاکہ مستقبل میں سیلاب کے نقصانات کو کم کیا جاسکے۔ پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق اروند کمار نے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں عہدیداروں نے بتایا کہ آؤٹر رنگ روڈ کے حدود میں واقع 26 میونسپلٹیز کے 315 علاقے ایسے ہیں جہاں توجہ کی ضرورت ہے۔ ان علاقوں میں 573 غیر مجاز تعمیرات کی نشاندہی کی گئی ہے جو نالوں پر تعمیر شدہ ہیں۔ اس کے علاوہ شکم اراضی پر 4606 غیر مجاز تعمیرات کی نشاندہی کی گئی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ 247 شکم اراضی مکمل طور پر غیر مجاز قبضے کے تحت ہے۔ اروند کمار نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ شہری علاقوں میں سیلاب کے پانی کے نقصانات کو روکنے کیلئے زون کی سطح پر منصوبہ تیار کیا جائے اور یہ جاریہ سال جون تک حکومت کو پیش کیا جائے تاکہ مانسون کے آغاز سے قبل عمل آوری کی جاسکے۔ محکمہ بلدی نظم و نسق نالوں کی ترقی کے علاوہ غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی پر کارروائی کرے گا۔ زونل کمشنرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ڈرین نیٹ ورک اور غیر مجاز تعمیرات کے علاوہ مجوزہ منصوبہ کی تفصیلات جلد سے جلد داخل کریں۔ کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ عارضی و مستقل طور پر 185 جھیلوں کے مرمتی کاموں کو انجام دیں۔
